سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف حکومت گرانے نہیں آئے بلکہ اس حکومت کو نکال کر جمہوریت بحال کرکے رہیں گے، ہم نے پاکستان بچانا ہے، ہم نے اس آفت، ان بہروپیوں سے پاکستان کو بچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی بنیاد جمہوریت ہوتی ہے اور اس کے بعد خوشحالی آتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی دن کہا کہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہے۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈے تو مشرف دور میں بھی استعمال نہیں ہوئے جو کچھ اس وقت سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ میری نظر میں تو یہ اے پی سی پہلے ہونی چاہیے تھی۔
سابق صدر نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کے خلاف جو ہتھکنڈے حکومت استعمال کر رہی ہے وہی اے پی سی کی کامیابی ہے۔ مریم نواز نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں میں، مریم نواز کو سلام پیش کرتا ہوں اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس تقریر کے بعد مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب ملاقات کے لیے آئیں گے۔ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تجربات کو شیئر کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر پابندیاں لگانا اتنا آسان نہیں ہے لیکن حکومت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے میڈیا کو پیمرا کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے مشرف کو خط بھیجا اور 18ویں ترمیم پاس کی۔ ہم نے یہ ایک دیوار بنائی ہے تاکہ کوئی آئین کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہ دیکھ سکے۔ 18 ویں ترمیم میں سب سے زیادہ حصہ پنجاب کو ملتا ہے۔