ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی نے کہا ہے کہ 5 سالہ مروا کے ساتھ زیادتی کیس میں ملزمان فیض اور عبداللہ کے ڈی این اے میچ ہو گئے ہیں، ملزمان نے نشے میں بچی سے زیادتی کی، زیادتی کے دوران بچی دم توڑ گئی تھی۔
کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے لیے ایک چیلنجنگ کیس تھا، کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں تھا اور بچی بھی قتل ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ملزموں کو تلاش کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم نواز تفتیش میں بے قصور ثابت ہو گیا، 34 لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، متاثرہ فیملی اور علاقہ مکینوں نے کیس کے حل کے لیے بہت تعاون کیا۔
ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بچوں کے 489 میسنگ کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 452 بچے پولیس نے تلاش کر لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے فنگر پرنٹس بھی بچی کے دوپٹے میں آچکے تھے، فیضو درزی کا کام کرتا تھا، بچی کی لاش جس کپڑے میں لپیٹ کر ڈالی گئی وہ ملزم نے انے استاد کی دکان سے اٹھایا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ عبداللہ کچرا چنے والا ہے، وہ 6 سال قبل برطانیہ سے ڈی پورٹ ہوا تھا جبکہ فیض درزی ہے جس نے ایک سال پہلے بھی ایک اور بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی تھی۔
ڈی آئی جی نعمان صدیقی کا کہنا تھا کہ سزا عدالت نے دینی ہے، ہمارے قانون میں ان جیسے کیسز میں مزید سخت سزا دینی چاہیے۔