حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں حکومت کو استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کرانے کے لیے جنوری 2021 تک کا وقت دینے کا فیصلہ کر لیا گیاہے۔
اے پی سی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اے پی سی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپوزیشن کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے ریکارڈ توڑ مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اکتوبر میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی جانب سے احتجاج اور عوامی ریلیاں نکالی جائیں گی۔
اے پی سی کا اعلامیہ
اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2020 کے پہلے مرحلے میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں مشترکہ جلسے منعقد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔
اعلامیے کے مطابق اگلے مرحلے میں دسمبر میں حکومت مخالف احتجاج کیا جائے گا اور جنوری میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہو گا۔
حکومت کی جانب سے نئے انتخابات نہ کرانے پر دھرنا، لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد جیسے تمام آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔
ضرورت پڑنے پر اسمبلیوں سے استعفیٰ بھی دیا جائے گا، اسی طرح ٹروتھ کمیشن قائم کیا جائے گا جو پاکستان بننے سے اب تک کی آمریت کے متعلق حقائق سامنے لائے گا۔
کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہوئے۔