حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، اسمبلیوں سے استعفیٰ کا معاملہ سب سے زیادہ متنازع رہا اور ایک وقت ایسا آیا جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ناراض ہو کر اے پی سی سے اٹھ گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کی تجویز کی حمایت کی مگر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے اختلاف رکھتے تھے۔
اے پی سی: حکومت کو نئے انتخابات کے لیے جنوری تک کا وقت دینے کا فیصلہ
میری تقریر لائیو نشر کیوں نہیں کی؟ فضل الرحمان کا پیپلزپارٹی سے احتجاج
ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر فیصلے کرنا ہوں گے، نواز شریف
اس معاملے پر جب بحث زور پکڑ گئی تو مولانا فضل الرحمان ناراض ہو کر کانفرنس سے اٹھ گئے لیکن شہبازشریف نے انہیں منا کر واپس آنے پر راضی کر لیا۔
اس دوران بلاول بھٹو زرداری نے نوازشریف کو کہا کہ جب آپ واپس آئیں گے تو ہم اپنے استعفے آپ کو جمع کرا دیں گے۔
نواز شریف نے جواب میں کہا کہ ہم اپنے استعفے آپ کے حوالے کرتے ہیں اور آپ اپنے استعفے ہمارے پاس جمع کرا دیں۔ پھر آپ دونوں کے استعفے مولانا فضل الرحمان کو دے دیں۔
مولانا فضل الرحمان کے مسلسل اصرار اور ناراضی پر پیپلزپارٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگلے سال جنوری میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کامیاب نہ ہوئی تو آخری آپشن کے طور پر اسمبلیوں سے استعفوں کو استعمال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں وزیراعظم سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر سے بڑے شہروں میں مشترکہ جلسے کیے جائیں گے جبکہ دسمبر میں عوامی ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے۔
تحریک کے تیسرے مرحلے میں جنوری 2021 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا تاکہ حکومت کونئے انتخابات پر مجبور کیا جا سکے۔