• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

اسلام آباد میں بڑھتے جرائم، عدالت نے مشیر داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی

by sohail
ستمبر 21, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد اور جرائم کے بڑھتے کیسز سے متعلق کیس میں مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو 3 ہفتوں میں مفصل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے حکم پر جب شہزاد اکبر پیش ہوئے تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا کہ آپ مشیر اور وزارت کے انچارج ہیں۔ آپ اپنی مہارت سے ان چیزوں کا حل نکالیں اور رپورٹ جمع کرائیں۔

مشیر داخلہ نے جواب دیا کہ میں خود گمشدگیوں کے کیسز میں عدالتوں میں پیش ہوتا رہا ہوں، جیسے ہی یہ معاملہ وزیراعظم کے علم میں آیا انہوں نے اس کا نوٹس لیا اور کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سارا نظام کرپٹ ہو چکا ہے اور یہ ایک دن میں نہیں ہوا، ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ اسلام آباد کو ماڈل شہر ہونا چاہیے لیکن یہاں پراسیکیوشن برانچ تک نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس تربیت یافتہ تفتیشی افسران نہیں ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ایک تفتیشی افسرکو تفتیش کیلئے300 روپے ملیں گے تو وہ باقی کہاں سے لائے گا۔ یہ کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفادات کا ٹکراؤ ہر جگہ نظر آ رہا ہے اور اسلام آباد میں اسکی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔

چیف جسٹس نے ضلعی عدالتوں کے حوالے سے کہا کہ ان میں چونکہ عام آدمی جاتا ہے اس لیے ان کی حالت غیرانسانی ہے جا کر حال دیکھیں۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں صرف اشرافیہ کی خدمت کی جا رہی ہے جس سے ریاست کی ترجیحات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کو بتائیں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت کا عزم ہی ان معاملات میں بہتری لا سکتا ہے۔

شہزاد اکبر نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس نے ایک ہفتے میں ملک بھر سے کمشدگی کے کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ مفادات کا ٹکراؤ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ وزارت داخلہ خود ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہے۔ وزیراعظم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ عام لوگ کیسے متاثر ہو رہے ہیں۔ ایلیٹ کلچر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

Tags: اسلام آباد ہائیکورٹچیف جسٹس اطہر من اللہشہزاد اکبر
sohail

sohail

Next Post

'جو ادارہ نوازشریف کے قابو میں نہ آئے، اس کے ساتھ وہ جنگ چھیڑ دیتے ہیں'

آرمی چیف کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اندرونی کہانی

واٹس ایپ کا اس سال کا اہم ترین فیچر صارفین کے لیے تیار

ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز، سرکاری دفاتر میں نئے ایس او پیز نافذ

کل سے اسکولز کھولنے کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In