این سی او سی نے کل سے دوسرے مرحلے میں اسکولز کھولنے کی اجازت دے دی ہے، چھٹی سے آٹھویں کلاسز شروع ہو جائیں گی۔
وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت ہونے والے این سی او سی کے اجلاس میں ملک میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اس تناظر میں مرحلہ وار تعلیمی ادرے کھولنے کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔
این سی او سی کے اجلاس میں وفاقی وزارت صحت اور صوبائی محکموں کے اعدادوشمار پر بھی مشاورت کی گئی۔ وزارت تعلیم کے حکام نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں کھولے گئے اداروں میں ایس او پیز پر سختی سے عمل جاری ہے جبکہ دوسرے مرحلے کے تعلیمی ادارے کھولنے کی تیاری مکمل ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیرتعلیم مراد راس کا کہنا تھا کہ چھٹی جماعت سے آٹھویں تک کے اسکول کھول دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں سے کیسز نکلیں گے کیونکہ کورونا ختم نہیں ہوا، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کورونا کا ایک کیس بھی نکلے گا تو اسکول بند کر دیا جائے گا۔
سندھ حکومت کے دوسرے مرحلے میں اسکول نہ کھولنے کے فیصلے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں جانتے سندھ نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے۔
مراد رئیس نے کہا کہ اسکولوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے، اس حوالے سے سخت ہدایات دی گئی ہیں اور نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
وزیر تعلیم خیبرپختونخوا شہرام ترکئی نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں تک اسکول کھول رہے ہیں، ان کلاسز کی تعلیمی سرگرمیاں کل سے بحال ہوں گی، تمام ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جائے گا، طلبا کیلئے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا ہے۔