سینیٹ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امپورٹ کیے جانے والے ٹریکٹرز پر33 فیصد ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں ایک ایجنڈا بیلارس ٹریکٹر کی قیمت سے متعلق تھا جس میں سوال کیا گیا تھا کہ پاکستان میں زیادہ تر کسان بیلارس ٹریکٹر استعمال کرتے ہیں جس کی اب قیمت 25 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس ٹریکٹر کی امپورٹ میں سبسڈی کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
چیئرمین کمیٹی سینیٹرسید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ بیلارس ٹریکٹر 26-27 لاکھ روپے کا ہو چکا ہے اس قیمت پر عام کاشتکار کیسے خریدے گا۔
سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں 12 سو سے 15 سو بیلارس ٹریکٹرز سالانہ امپورٹ کیے جاتے ہیں۔ ان کی قیمت 11 ہزار امریکی ڈالرز ہے لیکن اس پر33 فیصد ڈیوٹی اور ٹیکس لگنے کے بعد قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
امپورٹ ہونے والے ٹریکٹرز پر ڈیوٹی اور ٹیکس
کمیٹی کو بتایا گیا کہ امپورٹ ہونے والے ٹریکٹرز پر 33 فیصد ڈیوٹی اور ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امپورٹ ہونے والے ٹریکٹر پر15 فیصد کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے، اس کے علاوہ 5 فیصد سیلز ٹیکس، 3 فیصد ایڈیشنل ٹیکس، 6 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس، ایک فیصد ایف ای ڈی اور 3 فیصد بینک چارجز وغیرہ وصول کیے جاتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر سکندر بوسن نے بتایا تھا کہ ہم نے ملت ٹریکٹر خریدا اور جب اسے لاہور سے ملتان لایا گیا تو وہ خراب ہو گیا۔
چیئرمین کمیٹی سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ میں 95 فیصد بیلارس ٹریکٹر چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت بیلارس ٹریکٹر کی ڈیوٹی میں کمی کی سفارش کرے۔
پاکستان میں ٹریکٹرز بنانے والی کمپنیاں
کمیٹی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں 8 کمپنیاں ٹریکٹر تیار کر رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملت ٹریکٹرزکی 40 ہزار ٹریکٹرز بنانے کی صلاحیت ہے، الغازی ٹریکٹر ڈی جی خان کی 25 ہزار، یونیورسل کراچی کی 3ہزار ، ہیرو موٹرز حیدر آباد کی 3 ہزار، فارم آل لاہور کی 3 ہزار، آرزو ٹریکٹرز لاہور کی 3 ہزار، پی ایم آٹو انڈسٹری کراچی 5 ہزار جبکہ اورینٹ ٹریکٹرز بلوچستان کی 9 ہزار ٹریکٹرز بنانے کی کیپسٹی ہے۔
مالی سال 2017-18 میں 70,887 ٹریکٹرز فروخت ہوئے جبکہ مالی سال 2019-20 میں 32727 ٹریکٹر فروخت ہوئے۔ کورونا کی وجہ سے ہونے والا لاک ڈاؤن ٹریکٹروں کی فروخت میں کمی کا سبب بنا۔
پاکستان میں میسی فرگوسن کا شیئر 63 فیصد، فیٹ کا شیئر 36 فیصد جبکہ اورینٹ کا شیئر ایک فیصد ہے۔
10برسوں میں کتنے ٹریکٹر بنائے گئے اور کتنے فروخت ہوئے؟
سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں فیٹ، میسی فرگوسن اور اورینٹ نے 4 لاکھ 96 ہزار 446 ٹریکٹرز تیار کیے جبکہ 4 لاکھ 93 ہزار ٹریکٹرز فروخت ہوئے۔ گزشتہ 10 برسوں میں فیٹ کے 182,497 ٹریکٹرز تیار ہوئے جبکہ 182,405 ٹریکٹرز فروخت ہوئے۔
10 برسوں میں میسی فرگوسن نے 309,548 ٹریکٹرز تیار کیے جبکہ 306,234 ٹریکٹرز فروخت کیے۔ گزشتہ 7 برسوں میں اورینٹ آئی ایم ٹی نے 4,401 ٹریکٹرز تیار کیے اور 4,283 ٹریکٹرز فروخت کیے۔