چین اور بھارت کے درمیان سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک نے سرحد پر مزید فوجیں نہ بھیجنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
نئی دہلی میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے غلط فہمیوں سے گریز کرنے اور سرحد پر صورتحال کو یکطرفہ طور پر نہ بدلنے پر اتفاق کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین اور بھارت نے ملٹری کمانڈرز کی سطح کا ساتواں راؤنڈ جلد منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی وزیردفاع نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ فوجی افسروں کی سطح پر ملاقات ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ ہمالیہ کی بلند چوٹیوں پر دونوں ممالک کے فوجی آمنے سامنے کھڑے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی وقت صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ دنوں 45 برس بعد اس علاقے میں فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اس کا الزام عائد کیا۔
15 جون کو لداخ کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوج ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد صورتحال بگڑنا شروع ہو گئی اور دونوں ممالک نے مزید فوجی دستے علاقے میں بھیج دیے۔
11 ستمبر کو روس میں مذاکرات کا ایک دور ہوا تھا لیکن اس سے صورتحال پر کوئی عملی فرق نہیں پڑا تھا۔
دونوں جوہری مسلح ہمسائے ممالک کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر کی سرحد موجود ہے جس کے کئی مقامات متنازعہ ہیں۔