• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

بلدیاتی اختیارات صوبائی یا وفاقی حکومت کو دینا آرٹیکل 140 کے خلاف ہے، چیف جسٹس

by sohail
ستمبر 23, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں لوگ سڑکوں پر مر رہے تهے، گهروں میں پانی داخل ہو چکا تها، سڑکوں پر پانی کهڑا تها لیکن عملہ کہیں نظر نہیں آیا۔

پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، دانیال عزیز سمیت 5 درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

سماعت کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، احسن اقبال سمیت ایم کیو ایم کے کئی رہنما عدالت میں موجود تھے۔

درخواستوں میں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کی استدعا کی گئی تھی۔

وکیل ایم کیو ایم بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہماری درخواست کا اصل مقصد صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات کا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ عمران ٹوانہ کیس میں آرٹیکل 140 کی تفصیل دی گئی ہے جس پر وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی ادارے وفاق اور صوبوں کو جوابدہ نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ذکر موجود ہے، حقیقت میں اختیارات نہیں دیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں 2013 میں ایک قانون کے تحت بلدیاتی اداروں کے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات میں فرق کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی اختیارات صوبائی یا وفاقی حکومت کو دینا آرٹیکل 140 کیخلاف ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات منتقلی سے ہچکچا رہی ہیں۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے منشور میں اختیارات منتقلی کا ذکر کیا، عملی طور پر اختیارات منتقلی کی بات آئے تو کوئی کام نہیں ہوتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ حکومت میں ہوں تو اختیارات دینے کو دل نہیں کرتا، حکومت میں نہ ہوں تو یہ اختیارات منتقلی کی بات کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ مقامی حکومتوں کا ہونا کسی کی چوائس نہیں بلکہ لازمی ہے، کراچی میں لوگ سڑکوں پر مر رہے تهے، گهروں میں پانی داخل ہو چکا تها، سڑکیں زیر آب تھیں لیکن عملہ کہیں نظر نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ کاغذوں پر عملہ ہے لیکن موقع پر دکهائی نہیں دیتا، اس کا مطلب ہے گهوسٹ ملازمین ہیں اور اربوں روپے تنخواہوں کی مد میں کهایا جا رہا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے وہ دور دیکها ہے جب رات کو تین بجے کام شروع ہو جاتا تها، سڑکیں دهوئی جاتی تهیں، کہاں گئے وہ لوگ، ہم قانون سازی میں آپ کی مدد کر دیتے ہیں ہیں لیکن اس کا حاصل وصول کیا ہو گا؟

وکیل نے کہا کہ میں یہاں ایم کیو ایم یا کسی سیاسی جماعت کا دفاع نہیں کر رہا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ درخواست اختیارات کے حصول یا دکهاوے کے لیے دی گئی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں بلدیات کے کام کے لیے پولیس کے اختیارات بهی دے دیے جائیں۔

وکیل نے جواب میں کہا کہ شہری مسائل کا اختیار اگر کونسلر کے پاس ہونا چاہیے، میرے گهر کے سامنے گٹر ابل رہا ہو تو کونسلر کے پاس جا سکتا ہوں لیکن چیف منسٹر تک رسائی نہیں، موجودہ صورتحال میں کونسلر کا اختیار چیف منسٹر کو دے دیا گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اختیار ناظم سے لے کر سندھ حکومت کو دیا گیا، سالڈویسٹ مینجمنٹ کا اختیار بھی بلدیات سے سندھ حکومت نے واپس لیا، دنیا بھر میں ٹاؤن پلیننگ کنٹرول بلدیاتی حکومتوں کا کام ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں حکومت کو قانون میں ترمیم کی ہدایت کریں؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون سازی کے لیے گائیڈ لائنز دے سکتی ہے۔

ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ 2014 میں ایم کیو ایم نے بلدیاتی قانون چیلنج کیا تھا، سندھ میں کونسے اختیارات مقامی حکومتوں کے پاس ہیں؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کراچی کی بلدیاتی حکومت خود فنڈز جنریٹ کر سکتی ہے؟ جس پر ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ کراچی میں ضلع ٹیکس ختم کردیا گیا۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعہ بلدیاتی حکومتوں کو ادائیگی ہوئی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے قانون سازی کے دوران ایم کیو ایم کی جانب سے آواز اٹھانے کے بارے میں استفسار کیا تو وکیل نے کہ ایم کیو ایم اقلیت میں تھی، اس لیے ان کی بات نہیں سنی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سارا کھیل طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا ہے، کیا گارنٹی ہے مقامی حکومتیں اختیارات ملنے پر کام کرائیں گی، مکمن ہے بلدیاتی حکومتیں زیادہ کام خراب کر دیں، کراچی کو جو بھی نظام دیا گیا، اس کے کوئی اچھے نتائج نہیں نکلے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے واضح کیا کہ اختیارات کے ساتھ احتساب کی بات بھی ہوگی جس پر ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ اچھا سے اچھا نظام بھی چوروں کے سپرد کردیں تو رزلٹ صفر ہو گا، اچھی گورننس کے لیے احتساب بہت ضروری ہے، کراچی کا موجودہ نظام فرشتہ بھی نہیں چلا سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوکل گورنمنٹ کا اصل کانسیپٹ منتقل ہی نہیں کیا گیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ کراچی اسلام آباد کی نسبت  ایک بڑا شہر ہے لیکن یہاں بھی اداروں کے درمیان اختیارات کا ٹکراؤ رہتا ہے، اسلام آباد میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے،  اگر قانون سازی نہیں ہوگی تو اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی لوکل گورنمنٹ تھی اپ نے کیا کیا، اختیارات کی بات کرنی ہے تو ذمہ داری اور احتساب کی بھی کرنا ہو گی۔

وکیل ایم کیو ایم نے دلائل میں مزید کہا کہ اصل مسئلہ سسٹم کا عجیب سا ملغوبہ ہونا ہے، پانی کی فراہمی ایک ادارے کی ذمہ داری ہے تو سیوریج کا ذمہ دار دوسرا ادارہ ہے، بااختیا بلدیاتی ادارے کا مقصد ہے کہ ایک عام شہری کی رسائی چیف منسٹر نہ سہی کونسلر تک تو ہو سکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  ادارے الگ الگ ہونا اصل مسئلہ نہیں، ان میں رابطے کی کمی اصل مسئلہ ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ مقامی حکومت آپکی تھی آپ نے کیا کیا؟ لوگ ڈوب رہے تھے، مر رہے تھے، گھر گر رہے تھے، بلدیاتی حکومت کہاں تھی؟

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے 20 ہزار ملازمیں تنخواہیں لیتے ہیں، سڑکوں پر کیوں نہیں نظر آئے؟ ہم نے اپنے دور میں دیکھا کہ کے ایم سی عملہ علی الصبح سڑکوں پر کام کرتا دکھائی دیتا تھا، آپ لوگ ایک جامع اور آئیڈیل قانون بنائیں ہم آپکی مدد کریں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ کا بلدیاتی قانون نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں، شہریوں کا مفاد دیکھ کر قانون سازی ہونی چاہیے۔

وکیل نے کہا کہ سندھ کا موجودہ نظام بنایا ہی ناکام ہونے کے لیے ہے، سندھ بلدیاتی قانون کی شق 74 اور 75 آئین سے متصادم ہیں، شق 74 کے تحت صوبائی حکومت جو اختیار چاہیے بلدیات سے واپس لے سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ دو ہفتہ بینچ دستیاب نہیں ہوگا، اپنے دلائل کو قانونی نقاط تک محدود کریں۔

عدالت نے تمام وکلا سے تحریری دلائل طلب کرلیے جبکہ  تحریک انصاف کی درخواست پر رجسٹرار نے اعتراضات کالعدم قرار دے دیتے ہوئے سندھ حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواستوں کی سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتہ تک ملتوی کردی۔

Tags: آرٹیکل 140بلدیاتی اختیاراتچیف جسٹس گلزار احمدسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

شیخ رشید آرمی چیف سے ملاقات کے معاملے میں جھوٹ بول رہے ہیں، احسن اقبال

نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، مریم نواز

یو اے ای میں شراب نوشی اور اس کی خرید کے لیے پرمٹ کی پابندی ختم

پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار دلانے والے بڑے گروپ کے سی ای او خالد نواز کی وزیراعظم سے اپیل

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہونے والی رپورٹس پر اراکین کا عدم اطمینان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In