ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کہا ہے کہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جو جنوبی ایشیاء کے استحکام اور امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے،
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس مسئلے کو قوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کھل کر کہا کہ دنیا میں نسل پرستی، نفرت اور اسلاموفوبیا بڑھ چکا ہے اور مسلمانوں کو ان حالات میں سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔
طیب اردوان نے اس کی وجہ ان سیاستدانوں کو قرار دیا جنہوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مقبول بیانیہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں نے آزادی اظہار کے نام پر نفرت آمیز بیانات کو درست قرار دیا۔
انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر بھی بات کی اور اس مسئلہ کا حل جغرافیائی لحاظ سے آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کو قرار دیا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جو فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف ہو۔
انہوں نے یونان کے غیرمناسب رویہ کو مسئلہ قبرص کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔