وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، ذرائع کے مطابق وزراء کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وفاقی وزرا شیریں مزاری، ندیم بابر اور اسد عمر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق شیریں مزاری نے اسد عمر سے شکوہ کیا کہ آپ ہمیں پورا ایجنڈا نہیں پڑھنے دیتے جبکہ اسد عمر نے ندیم بابر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ پٹرولیم مصنوعات اور گیس کے معاملے میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، جس پر ندیم بابر نے جواب دیا کہ میں نہیں آپ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے مداخلت کی اور وزرا کو غیرضروری بیانات دینے روک دیا، انہوں نے کہا کہ وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی۔
اجلاس کے دوران فیصل واوڈا نے گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی تجویز پیش کی جس سے وزیراعظم نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس شعبے میں زیادہ دلچسپی ہے اور ان کی معلومات زیادہ ہیں۔
اس کے علاوہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں گرین ایریا پر جیل کی تعمیر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور چیئرمین سی ڈی اے کو اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا۔
کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) پر گفتگو کی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کا کافی دیر تذکرہ ہوتا رہا۔