سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنا دی ہے جبکہ رؤف صدیقی سمیت دیگر 4 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا ہے۔
بری ہونے والے افراد میں ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبدالستار رؤف صدیقی شامل ہیں۔
دیگر 4 ملزمان کو سہولت کاری کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔
20 کروڑ بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی، سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ
عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں 6 نام موجود نہیں ہیں، علی زیدی
گیارہ ستمبر 2012 کو ہونے والے سانحہ بلدیہ ٹاون میں 259 افراد جل کر ہلاک ہوگئے تھے، 8 برس انصاف کی تلاش میں بھٹکتے لواحقین کے لیے آج کا دن بہت اہم ہے۔
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی پیروی رینجرز پراسیکیوشن نے کی ہے۔ اس دوران 3 تفتیشی افسران تبدیل ہوئے، 4 سیشن ججز نے سماعت سے معذرت کی جبکہ 6 سرکاری وکلا نےدھمکیوں کے باعث مقدمہ چھوڑ دیا تھا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق حماد صدیقی نے بھتہ نہ دینے پر رحمان عرف بھولا کو آگ لگانے کا حکم دیا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آگ لگائی۔ 2015 میں ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے دبئی میں جا کر فیکٹری مالکان سے تفتیش کی جنہوں نے اقرار کیا کہ ان سے بھتہ مانگا گیا تھا۔
جے آئی ٹی کی بنیاد پر 2016 میں چالان پیش کیا گیا، اسی سال دسمبر میں رحمان بھولا کو بینکاک سے گرفتار کیا گیا۔
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا مقدمہ پہلے سٹی کورٹ میں چلا اور پھر سپریم کورٹ کی ہدایات پر اسے انسداد دہشتگردی میں چلایا گیا۔