امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کے چینی ایپ وی چیٹ پر پابندی لگانے کے حکم پر عمدرآمد روک دیا ہے۔
وی چیٹ ایپلی کیشن کے ایک امریکی صارف نے حکومتی حکم کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، عدالت نے اپنے فیصلے میں آزادی اظہار سے متعلق پہلی ترمیم کا حوالہ دیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پابندیاں، ٹک ٹاک کی قانونی کارروائی کی دھمکی
لاک ڈاؤن میں ویڈیو کالز کا بے دریغ استعمال کس طرح آپ کی توانائی نچوڑ رہا ہے؟
سان فرانسسکو کے جج بیلر نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ وی چیٹ پر پابندی اس اہم ترمیم پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے، انہوں نے اس ایپ کو بلاک کرنے کی بیان کردہ وجوہات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
امریکی حکومت کا موقف تھا کہ وی چیٹ اور دیگر چینی کمپنیاں غیرمناسب انداز میں صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
چینی حکومت اور وی چیٹ نے امریکی انتظامیہ کے ان دعوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ ایک بدقسمتی ہے۔
ٹک ٹاک ایپ کو بھی امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے اوریکل کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مل گئی ہے۔
یاد رہے کہ 6 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے وی چیٹ اور ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔
اگست تک وی چیٹ کے 33 لاکھ ایکٹو امریکی صارفین موجود تھے جو اس ایپ کو استعمال کر رہے تھے، یہ امریکہ میں رہنے والے چینیوں کا اپنے عزیزواقارب کے ساتھ بات چیت کا سب سے مقبول ذریعہ تھا کیونکہ فیس بک میسنجر اور واٹس ایپ جیسی ایپس پر چین میں پابندی عائد ہے۔