وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے ترجمانوں اور وزراء کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والی اے پی سی کے اعلامیہ کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ترجمانوں اور وزراء کو پارٹی بیانیے کے بارے میں ہدایات دیں اور ہدایت کی کہ اے پی سی کے فیصلوں کا مدلل اورمنطقی جواب دیا جائے۔
اسمبلیوں سے استعفیٰ، اپوزیشن کے اختلافات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
میری تقریر لائیو نشر کیوں نہیں کی؟ فضل الرحمان کا پیپلزپارٹی سے احتجاج
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اے پی سی کے حکومت مخالف فیصلوں اور ملک گیر تحریک پر مشاورت کی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ اے پی سی میں بیٹھے چہروں اور ان کی ذاتی مقاصد سے قوم آگاہ ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں، اپوزیشن کی اداروں پر تنقید غیرمنطقی اور اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شبلی فراز، اسدعمر اور فواد چودھری آل پارٹیز کانفرنس کے بیانیے پر حکومتی نقطہ نظر پیش کریں گے اور اپوزیشن کے اعلامیے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے اداروں کے خلاف بیان بازی پر افسوس کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں وزیراعظم سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر سے بڑے شہروں میں مشترکہ جلسے کیے جائیں گے جبکہ دسمبر میں عوامی ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے۔
تحریک کے تیسرے مرحلے میں جنوری 2021 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا تاکہ حکومت کونئے انتخابات پر مجبور کیا جا سکے۔