مائیکروسافٹ کمپنی کے بانی اور دنیا کے امیرترین افراد میں شامل بل گیٹس نے کہا ہے کہ کورونا وبا 2022 میں ختم ہو جائے گی۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کورونا کی ویکسین بنانے میں جس طرح تیزی سے کام ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں امریکہ میں 2021 کے موسم گرما میں زندگی معمول پر آ جائے گی۔
بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں کورونا ویکسین کی بہت بڑی تعداد میں خوراکیں تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ویکسین صرف امیروں کے لیے مخصوص نہ ہو جائے۔
کورونا کی ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی ایک رکاوٹ باقی رہے گی، بل گیٹس
دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟
ان کی فاؤنڈیشن نے کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے 65 کروڑ ڈالرز کا عطیہ دیا ہے جو دنیا میں کسی بھی فاؤنڈیشن کی طرف سے دیا جانے والا سب سے بڑا عطیہ ہے۔
بل گیٹس نے بتایا کہ اس عطیے کا مقصد یہ ہے کہ جونہی ویکسین تیار ہو، اس کی خوراکیں غریب ممالک کے لیے بھی اسی طرح بننی شروع ہوں جس طرح امریکہ کے لیے ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے باعث دیگر بیماریوں کی ویکسین پلانے کی شرح 14 فیصد کم ہو چکی ہے جس کے باعث 20 سال کی ترقی مٹی میں مل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجود عالمی وبا کے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر برے اثرات اس سے کہیں زیادہ ہیں جن کا پہلے ہم نے اندازہ لگایا تھا۔
کورونا ویکسین کے متعلق ان کا اندازہ تھا کہ 2021 کے اوائل میں اس کی منظوری مل جائے گی جبکہ اسی سال کے اواخر میں بہت سے ممالک میں وبا کا خاتمہ ہو جائے گا اور زندگی کا پہیہ اپنے معمول کے مطابق گھومنے لگے گا۔