اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں مبینہ ڈکیٹ کی فائرنگ سے ایک لڑکی شدید زخمی ہو گئی ہے۔
واقعہ رات 8 بجے کے بعد پیش آیا جب ایک خاتون اپنی دو بیٹوں کے ہمراہ جی تیرہ فور کی ریلوے لائن عبور کررہی تھی، قریب ہی جھاڑیوں میں چھپے شخص نے نکل کر ان پر حملہ کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس شخص نے بلا اشتعال اچانک جھاڑیوں سے نکل کر خاتون کی جوان بیٹی پر متعدد فائر کئے جس میں سے ایک گولی نوجوان لڑکی کی کمر میں جا لگی۔
فائرنگ کی آواز سن کر گولڑہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مبینہ ڈکیت فرار ہوگیا۔ لڑکی کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
لڑکی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ ڈی ایس پی خالد اعوان نے بتایا کہ وہ خود موقع پر پہنچے اور خاتون کو اسپتال پہنچایا۔
گولڑہ پولیس اس واقعہ کو ڈکیتی کی بجائے اتفاقیہ قرار دے رہی ہے جبکہ اس وقت اسلام آباد شہر میں گن پوائنٹ پر نقدی زیور اور موبائیل فون چھیننے کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔
اس واقعہ میں بھی صورتحال دیکھ کر اندازہ یہی ہوتا ہے کہ یہ موبائل سنیچنگ کی کوشش کی گئی اور مزاحمت پر ڈکیت نے فائرنگ کرکے لڑکی کو شدید زخمی کردیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق ابھی اس حوالے سے تحقیق جاری ہیں اور حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ واقعہ کی نوعیت کیا تھی۔
اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم اور فائرنگ کے واقعات نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔ سیکٹر جی تیرہ میں خود رو جھاڑیاں انسانی قد سے بھی اونچی ہوگئی ہیں۔ علاقہ مکینوں کی بارہا شکایات کے باوجود انتظامیہ سیکٹر کے کاموں اور سیکیورٹی کے امور میں سست روی کا شکار ہے۔اس واقعہ سے کچھ ہی دیر قبل ہاوسنگ اینڈ ورکس کے ڈائریکٹر جنرل وسیم باجوہ نے سیکٹر جی تیرہ اور جی چودہ کی گرین بلٹ پر شجر کاری مہم کے تحت پودے لگائے اور علاقہ مکینوں کو ترقیاتی کاموں کے جلد از جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ علاقہ مکینوں نے سیکٹر بعض کی گلیوں بجلی کے کھمبوں پر لائٹس نہ ہونے اور امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔