• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر فیصلے کرنا ہوں گے، نواز شریف

by sohail
ستمبر 20, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت آئے تو پہلے اسے کمزور اور پھر فارغ کرا دیا جاتا ہے، ہرطرح کی مصلحت چھوڑ کر فیصلے کرنا ہوں گے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کی اس بات سے متفق ہوں کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کے فیصلے کرنا ہوں گے۔

ہم اس حکومت کو نکال کر جمہوریت بحال کریں گے، آصف زرداری

نوازشریف نے کہا پاکستان میں یا مارشل لا ہوتا ہے یا منتخب حکومت کے متوازی نظام چلتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے اب معاملہ ریاست کے اندر ریاست سے نکل کر ریاست کے اوپر ریاست تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزرائے اعظم جانتے ہیں کہ کس طرح جمہوری وزرائے اعظم کے گرد شکنجہ کس دیا جاتا ہے؟

نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ سنانے کیلئے پوری داستان ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں33 سال کاعرصہ آمریت کی نذر ہوگیا اور صرف ایک ڈیکٹیٹر کو سزا سنائی گئی اور دوسری طرف آئین پر عمل کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جو سیاستدان عوام کے ووٹ سے وزیراعظم بنے ان میں سے کسی کو نااہل قرار دیا گیا، کسی کو قتل کر دیا گیا اور کسی کو جلا وطن کیا گیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب ووٹ کی عزت کا احترام نہیں ہوتا تو جمہوریت نہیں رہتی، پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا۔ 73 سالہ تاریخ میں ایک بھی وزیراعظم کو 5 سال کی مدت پوری نہیں کرنی دی گئی۔ ہر ڈکٹیٹر نے اوسطاً 9 سال غیرآئینی مدت پوری کی۔ آمریت کو روکنے کے لیے آئین میں آرٹیکل 6 ڈالا گیا۔

نوازشریف نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ جمہوریت پرضرب لگے،ووٹ کی عزت پامال ہو تو سارا جمہوری عمل بےمعنی ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ہائی جیک کرکے نتائج تبدیل کرنا بد دیانتی اور آئین شکنی ہے۔ آج قوم جن حالات سے دوچار ہے انکی بنیادی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان حکمرانوں کو مسلط کیا۔ چیف الیکشن کمشنر سمیت تمام ذمہ داران کو جواب دینا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام وہ چلائے جسے عوام ووٹ دے۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا سنگین جرم ہے۔ اگرپاکستان میں ووٹ کو عزت نہ ملی تو یہ ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں رہے گا۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کے خلاف منظم کردار کشی کی جاتی ہے اور مخلص سیاستدانوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار عوامی نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے۔ خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والوں نے 1 کروڑ 20لاکھ نوکریاں چھین لیں، الیکشن میں دھاندلی کے ذمہ داروں کو جواب دینا ہو گا کہ کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے؟ کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں؟

نوازشریف نے کہا کہ بھارت نے کٹھ پُتلی حکومت دیکھ کشمیر کواپنے اندر ضم کرلیا ہم احتجاج بھی نہ کرسکے۔ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ ملکر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ڈکٹیٹر کا بنایا گیا ادارہ نیب حکومت کا آلا کار بن چکا ہے، اسے برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی۔ نیب انتہائی بدبودار ہوچکا ہے۔ نیب سے بچ جانے والے کو ایف بی آر کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔  ہماری اعلی عدالتیں نیب کے منفی کردار پر رائے دے چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے کئی سینئیر اہلکاروں کے گھناؤنے کردار سامنے آ چکے ہیں، بہت جلد ان سب کا یوم حساب آئے گا۔ نیب اپنے قیام کا جواز مکمل طور پر کھو چکا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت کے کئی انتہائی سنگین اسکینڈل سامنے آچکے ہیں۔ دوائیوں کی قیمتیں آسمان پر لے گئے۔ جب ہم حکومت چھوڑ کر گئے اس وقت چینی 50 روپے تھی۔ آج چینی کی قیمت 100 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت بڑھانے میں ملک کا حکمران خود ملوث ہے۔ بنی گالہ میں عمران خان کے ذاتی گھر کی فائل کیا یوں ہی بند رہے گی۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود کیا الیکشن کمیشن درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کرےگا۔

انہوں نے کہا کہ کیا ان تمام افراد پر فوجداری کا مقدمہ درج نہیں ہوگا؟ عمران خان نے اربوں روپے کی جائیداد رکھتے ہوئے بھی 2 لاکھ 83 ہزار ٹیکس دیا۔ کیا نیب ان آمدن سے زائد اثاثوں پر کوئی نوٹس نہیں لے گا۔

میڈیا کی آزادی کے متعلق انہوں نے کہا کہ سینئر صحافیوں کو چینلز سے برخاست کرا دینا کیا جمہوری ریاست کا طریقہ ہے؟ سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی حفاظت کریں گے۔ میڈیا کی آزادی پر کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کیلئے لڑاوَ اور تقسیم کرنے کی پالیسی چلائی جارہے، ہم ایک اور قومی مفاد کی خاطر تقسیم ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ کانفرنس سنگ میل بن سکتی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرس میں جو فیصلہ ہوگا مسلم لیگ ن اس پر ہر طرح سے عمل کرے گی۔

Tags: اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنسنواز شریفنواز شریف کا اے پی سی سے خطاب
sohail

sohail

Next Post

اسلام آباد میں مبینہ ڈکیت کی فائرنگ، ایک لڑکی شدید زخمی

ملزمان نے نشے میں 5 سالہ مروا کے ساتھ زیادتی کی، ڈی آئی جی کی پریس کانفرنس

بالی وڈ اداکارہ پائل گھوش کا فلمساز انوراگ کشیپ پر جنسی زیادتی کی کوشش کا الزام

میری تقریر لائیو نشر کیوں نہیں کی؟ فضل الرحمان کا پیپلزپارٹی سے احتجاج

اے پی سی: حکومت کو نئے انتخابات کے لیے جنوری تک کا وقت دینے کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In