موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم عابد ملہی کو پولیس ایک مرتبہ پھر گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
ہم نیوز کے مطابق گزشتہ روز ملزم کی سالی کشور بی بی نے پولیس تک اطلاع پہنچائی تھی کہ عابد شام 4 بجے اس سے ملنے آیا تھا، اس کا حلیہ خراب تھا، کپڑے پھٹے ہوئے اور جوتا ٹوٹا ہوا تھا۔
ننکانہ صاحب میں رہائش پذیر کشور بی بی کا کہنا تھا کہ عابد ملہی نے اسے پارک میں ملنے کو کہا جس پر اس نے محلے داروں کو اطلاع کر دی جنہوں نے پولیس کو بتا دیا ۔
موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی بیوی گرفتار
ڈی پی او اسماعیل کھاڑک کی نگرانی میں ایلیٹ فورس اور مختلف تھانوں کی نفری نے دولر والا قبرستان اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کیا گیا لیکن ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔
کشور بی بی کے مطابق ملزم سے ہماری کوئی رشتہ داری نہیں ہے، اس نے ہماری بہن کو اغوا کر کے شادی کی تھی، ہماری بہن کے پہلی شادی سے 4 بچے ہیں۔
پولیس نے اس وقت عابد ملہی کے دو کزن، ایک خاتون اور دو عزیزوں کو گرفتار کیا ہوا ہے جن سے ملزم نے 2 روز قبل رابطہ کیا تھا۔
پولیس نے ملزم کی بیوی کو بھی گرفتار کیا ہوا ہے جو بچوں کو لینے کے لیے مانگا منڈی اپنے سسرال پہنچی تھی۔
اس سے قبل ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے شیخوپورہ اور قصور میں بھی سرچ آپریشن کیا گیا تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر ایک خاتون کی گاڑی پٹرول ختم ہونے کے باعث بند ہو گئی اور دو افراد نے گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کے اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے پاس درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون گاڑی روک کر اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی، خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر انہیں جواب دیا گیا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود نہیں ہے۔
اس دوران دو افراد گاڑی کے پاس پہنچے اور انہوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور بچوں پر تشدد کیا اور پھر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے جہاں زیادتی کے بعد خاتون سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔