قومی اسمبلی کا اجلاس دن 11 بجے طلب کیا گیا تھا مگر اجلاس کی کارروائی پون گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی۔ تلاوت، نعت اور ترانہ کے بعد اپوزیشن نے بولنے کے لیے مائیک مانگا مگر ڈپٹی اسپیکر نے ایجنڈے کے مطابق کارروائی چلانے کی کوشش کی۔
مائیک نہ ملنے پر اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کر دیا۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ پہلے وقفہ سوالات ہو گا اس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی کو بات کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں بات نہیں کرنے دے رہے ہیں آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اجلاس کی کارروائی ایجنڈا کے مطابق چلاؤں گا۔
سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ 11 بجے اجلاس کا وقت تھا لیکن آپ نے ایک گھنٹہ کی تاخیر سے کارروائی شروع کی ہے اس کے بعد بھی آپ اپوزیشن کو بات کرنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں۔ جس کے بعد اپوزیشن کی طرف سے کورم کی نشاندہی کی گئی۔
کورم پورا نہ ہونے پر 30 منٹ کے لیے اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ کورم کی نشاندہی پر ارکان اسمبلی کی گنتی کے دوران ن لیگی ایم این اے شیخ فیاض الدین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسے کل گنتی بڑھا لی تھی آج بھی گنتی بڑھا لینا۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری 30 منٹ کے بعد اسپیکر کی چیئر پر براجمان ہوئے۔ 30 منٹ کے بعد بھی کورم پورا نہ ہوسکا تھا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
گزشتہ روز ہونے والے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی طرح حکومتی ارکان نے بھی بھر پور شرکت کی تھی مگر آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان اسمبلی اکثریت میں غیر حاضر تھے جس کا اپوزیشن نے فائدہ اٹھایا اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے دی۔
حکومتی ارکان اسمبلی اور وزراء کے رویے کی وجہ سے آج حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں چند وزراء کے سوا دیگر تمام غائب تھے۔
قومی اسمبلی کے آج کے ایجنڈا میں صدر اور وزیر اعظم کی تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات ایکٹ 1975 میں مزید ترمیم کا بل بھی پیش کیا جانا تھا۔