وزیر کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ حکومت نے گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد اس علاقے کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی ہو گی۔
گلگت بلتستان کے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جلد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور اسے صوبہ بنانے کا اعلان کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں نومبر کے وسط میں انتخابات منعقد ہوں گے، اس کے لیے ہماری تیاریاں مکمل ہیں۔
ایکسپریس ٹریبون کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف مقامی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے مگر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد ممکن نہیں۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ آئینی حقوق ملنے کے بعد گندم پر دیا جانے والا ٹیکس سے استثنیٰ واپس نہیں لیا جائے گا، جب تک اس علاقے کے لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو جاتے، اس وقت تک یہ سہولت میسر رہے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس فیصلے سے گلگت بلتستان کی 73 سال سے موجود محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرے گی اور ہر ضلعی اسپتال اور بنیادی مراکز صحت میں ایم آر آئی اور سٹی اسکین کی مشینیں فراہم کی جائیں گی۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ حکومت میڈیکل اور انجینئرنگ کالج بھی قائم کرے گی اور اسکولوں کو فرنیچر کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری لانے کے لیے بابوسر ٹاپ پر ایک سرنگ کھودنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سی پی کے تحت اسپیشل اکنامک زونز پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔