موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی والدہ کے بعد اس کی بیوی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے تاہم وہ خود ابھی تک گرفت میں نہیں آ سکا۔
گزشتہ رات قصور میں 2 کلومیٹر کے دائرے میں سرچ آپریشن کیا گیا، اس دوران اس علاقے کے کھیتوں میں تلاشی لی گئی مگر پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
موٹروے زیادتی کیس، ملزمان کا تیسرا ساتھی بالا مستری گرفتار
موٹروے زیادتی کیس میں بڑی پیشرفت، ملزم شفقت نے اعتراف جرم کر لیا
اس سے قبل ملزم کے 5 مزید رشتہ داروں کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق زیرحراست افراد سے عابد کا دو روز قبل رابطہ ہوا تھا۔
ملزم عابد کی بیوی بشریٰ کو پولیس نے مانگا منڈی سے حراست میں لیا ہے، وہ پولیس کے چھاپے کے دوران بیٹی کو گھر پر چھوڑ کر اپنے شوہر سمیت فرار ہو گئی تھی۔
عابد کے ساتھ بشریٰ بی بی کی یہ دوسری شادی ہے، پہلے شوہر سے اس کی ایک بیٹی ہے، بشریٰ کا تعلق ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ سے ہے۔
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر ایک خاتون کی گاڑی پٹرول ختم ہونے کے باعث بند ہو گئی اور دو افراد نے گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کے اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے پاس درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون گاڑی روک کر اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی، خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر انہیں جواب دیا گیا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود نہیں ہے۔
اس دوران دو افراد گاڑی کے پاس پہنچے اور انہوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور بچوں پر تشدد کیا اور پھر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے جہاں زیادتی کے بعد خاتون سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔