وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کا مقصد ہماری معیشت کی تباہی ہے، ایسے حالات میں ہم سمجھ رہے تھے کہ اپوزیشن ہمارا ساتھ دے گی کیونکہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے متعلق میرا جو خدشہ تھا ویسا ہی ہوا، انہوں نے ہمارے سامنے نیب میں 34 ترامیم کی تجاویز دے دیں اور ہر قدم پر ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سب کو علم ہونا چاہیے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ ہمیں وراثت میں ملی جبکہ بلیک لسٹ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان پر پابندیاں لگ جاتیں۔
انہوں نے کہا کہ بلیک لسٹ ہونے کے نتیجے میں بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی، پاکستان پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے کیونکہ پیسہ گراوٹ کا شکار ہے، اس سے مزید مشکلات بڑھ جاتیں۔
کورونا پر پاکستان کی کامیابی
عمران خان نے کہا کہ جس طرح کورونا وبا سے پاکستان نکلا، کوئی اس کی امید نہیں رکھ رہا تھا، اب دنیا کہہ رہی ہے کہ اس وبا سے نجات کے لیے پاکستان سے سیکھو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت پر اگر پریشر بڑھتا تو بہت برے حالات ہوتے، پاکستان میں کورونا کیسز بھی کنٹرول میں ہیں اور ہم معیشت بھی بچا لی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مقابلے میں بھارت کو کورونا وبا کے باعث معاشی طور پر 24 فیصد نقصان ہوا ہے۔
منی لانڈرنگ کا عذاب
عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ منی لانڈرنگ کا مطلب ملک میں پیسہ ناجائز طریقے سے بنا کر باہر کے ملکوں میں بھجنا ہے، اس پیسے سے بیرونی ممالک میں جائیدادیں خریدیں جاتی ہیں، یہ ایسا بڑا عذاب ہے کہ غریب ملک مزید غریب ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے تو ڈالرز کی صورت میں پیسہ باہر جاتا ہے، ڈالرز کم ہوتے ہیں تو روپے پر دباؤ بڑھتا ہے اور مہنگائی آجاتی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ منی لانڈرنگ میں سے نیب کو نکال دو، ہمیں جب اس کا ڈر نہیں ہے تو انہیں کس چیز کا خوف ہے؟
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر سال پاکستان سے 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، ہم نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر لیے، اگر یہ 10 ارب ڈالر ہمارے پاس ہوتا تو ہم آئی ایم ایف سے قرض ہی نا لیتے۔
اپوزیشن جواب کیوں نہیں دے سکتی؟
انہوں نے اپوزیشن سے سوال پوچھا کہ میں اگر 40 سال کا ریکارڈ پیش کر سکتا ہوں تو یہ لوگ کیوں نہیں بتا سکتے، انہوں نے دبئی، لندن اور دیگر ممالک میں پاکستان کے ادارے تباہ کر کے جائیدادیں بنائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپنا چیئرمین نیب لگا کر انہوں نے ملک پر 4 گنا زیادہ قرضے بڑھا دیے، ہمارا ایک سال کا ٹیکس آدھا قرض کی ادائیگی میں چلا گیا، 2600 ارب اس بار پھر قرضوں کی قسطوں میں چلا جائے گا۔
احتساب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب ہم ان کے خلاف احتساب کریں تو کہتے ہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ لوگ اپنے لیڈر کے چوری کیے ہوئے پیسے کی حفاظت کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کو پیشکش کی کہ وہ ملک کے لیے جو کہیں گے اسے کرنے کو تیار ہوں، مگر کرپشن پر کبھی بھی تعاون نہیں کریں گے۔
شریف فیملی اور اسحاق ڈار پر طنز
انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے ان لوگوں کے پہلے کیا حالات تھے، اسحاق ڈار کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے والد کی سائیکل کی دکان نہیں تھی بلکہ یہ مے فیئر میں بڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہ گوالمنڈی میں نہیں بکنگم پیلس میں پلے بڑھے۔
بعد ازاں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا۔