پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر پر شدید کی اور کہا کہ کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کا فیصلہ کریں گے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اسپیکر اسد قیصر نے ہماری ترامیم پر بحث نہیں ہونے دی بلکہ پارلیمان کی کارروائی کو پاؤں تلے رود دیا، انہوں نے ریڈ لائن عبور کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پہلا موقع ہے جب میں کھڑا ہوا اور مجھے بولنے نہیں دیا گیا، اسپیکر کے اس رویے پر سخت احتجاج کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ آج اسپیکر کا رویہ سیلیکٹڈ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق تھا، انہوں نے میرے ساتھ نظریں ملانے سے انکار کر دیا، جمہوری تاریخ کا یہ سیاہ ترین دن ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کالا قانون منظور کرانا چاہتی تھی جس کے تحت 180 دن کے لیے کسی کو بھی گرفتار کیا جا سکے گا، ہم نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ اسپیکر جب بھی بلاتے تھے ہمارے نمائندے جاتے تھے۔
بلاول کا تحریک عدم اعتماد کا عندیہ
بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسقدر غیرجمہوری رویہ پہلے کبھی نہیں دیکھا، اسپیکر کے پاس قائد حزب اختلاف کو روکنے کی اجازت نہیں ہے مگر ایسا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا اعتراض حکومت کو سمجھانے اور اس کی مدد کرنے کے لیے کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد مشیر ایوان میں بل پیش نہیں کر سکتے۔
انہوں نے بل منظور کرنے کی کارروائی کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی جمہوری تاریخ پر ایک بڑا حملہ ہوا ہے، ہمیں مل کر کوئی ٹھوس فیصلہ کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مل کر درست کرنے کے لیے میرے سامنے ایک ہی راستہ عدم اعتماد کا ہے، اب ہمیں جمہوریت بحال کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔