وزیراعظم عمران خان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران کھلاڑیوں نے شکوہ کیا کہ مختلف اداروں کی کرکٹ ختم کرنے سے بہت سے کرکٹرز بیروزگار ہو گئے ہیں، اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق محمد حفیظ، اظہر علی اور چیف سیلیکٹر مصباح الحق نے بھی ادارہ جاتی کرکٹ کی بحالی پر زور دیا تاہم وزیراعظم نے یہ تجویز مسترد کر دی۔
اس سے قبل وزیراعظم نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ دنیا کو آئندہ کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ دکھائی دے۔
ان کا کہنا تھا کہ جتنا ٹیلنٹ پاکستان میں ہے وہ کہیں اور نہیں ہے، اگر سسٹم اور اسٹرکچر درست کر لیا جائے تو کرکٹ میں پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کا کرکٹ سسٹم سب سے بہتر ہے اس لیے وہ دنیا کی بہترین ٹیم سمجھی جاتی ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں کرکٹ میں من پسند افراد کو جگہ دی گئی اور اداروں میں سفارش پر لوگوں کو بھرتی کیا گیا جس کی وجہ سے نظام کمزور ہو گیا اور پاکستان اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کر پایا۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ ایک وقت تھا جب سرکاری ٹی وی سب دیکھتے تھے، بھارت میں بھی پاکستانی ڈرامے دیکھے جاتے تھے، اب ہمیں بہتر معیار پر آنا ہو گا۔
تقریب میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے 3 سالہ معاہدے پر دستخط کیے گئے، اس معاہدے سے پی سی بی کو 200 ملین ڈالرز کی آمدنی متوقع ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق نشریاتی حقوق معاہدے کی پہلی اسائنمنٹ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ ہو گی جبکہ قومی مینز اور ویمنز کرکٹ کے فروغ پر 15 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔