چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے کہا ہے کہ پولیس ملک میں قبضہ گروپ بن چکی ہے، جب تک یہ صورتحال رہے گی ملک میں موٹروے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین پر پولیس کے قبضے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ پولیس گندے انڈے نکال باہر کرے اور افسروں کو معاف کر دینے کی روایت ترک کر دے۔
سی سی پی او کے بیان پر پوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی، لاہور ہائیکورٹ
حکومت ہوش کے ناخن لے اور پولیس کی ساکھ بحال کرے، چیف جسٹس
انہوں نے آئی جی پنجاب انعام غنی کو اگلی پیشی پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دے دیا۔
یاد رہے کہ ایلیٹ فورس نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے، اس حوالے سے آئی جی پنجاب کو جواب دینے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
اس سے قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ سی سی پی او کے بیان پر پوری پنجاب کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ معافی مانگتی تو قوم کی بچیوں کو حوصلہ ہوتا لیکن الٹا پنجاب حکومت کے وزرا سی سی پی او کو بچانے میں لگ گئے، لگتا ہے سی سی پی او لاہور وزرا کا افسر ہے۔
انہوں نے آئی جی پنجاب انعام غنی سے تمام شاہراہوں پر سکیورٹی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ سینئر افسران روزانہ 2 گھنٹے پٹرولنگ کریں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ یہاں پولیس افسر گھر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور وائرلیس کر دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ حکومت اس واقعہ پر کمیٹی کمیٹی کھیل رہی ہے اور موقع پر تصاویر کھنچوائی جا رہی ہیں، انہوں نے استفسار کیا کہ وزیرقانون کس طرح کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں کیا انہیں تفتیش کا تجربہ ہے؟