اسلام آباد : مشکوک لائسنسز کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، 262 پائلٹس میں سے 180 کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے جبکہ 82 پائلٹس کی جعل سازی ثابت ہو گئی ہے۔
سول ایوی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے 141 پائلٹس میں سے 18 کے لائسنس جعلی نکلے ہیں۔
ویتنام نے مشکوک لائسنس کے معاملے پر تمام پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کر دیے
یورپی یونین نے پی آئی اے کی پروازوں پر 6 ماہ کی پابندی عائد کر دی
پائلٹس کی مشکوک ڈگریاں، سی اے اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی
ذرائع کے مطابق 50 پائلٹس نے کمپیوٹر امتحان میں جعل سازی کی تھی جبکہ 32 پائلٹس کے اے ٹی پی ایل لائسنس جعلی نکلے۔
سول ایوی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جعل سازی پر 28 پائلٹس کے لائسنس پہلے منسوخ کیے گئے جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد 22 کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز کابینہ کے اراکین کو اس معاملے پر بریفنگ دی گئی تھی۔
یاد رہے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے انکشاف کیا تھا کہ پی آئی اے سمیت دیگر ایئرلائنز میں مشکوک پائلٹس کی تعداد 262 ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا تھا جبکہ بہت سے ممالک نے پی آئی اے کی پروازیں پر پابندی عائد کر دی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ وفاقی وزیر کو یہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا، ان سے غلطی ہوئی۔