فیصل آباد میں 2 خواجہ سراؤں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق خواجہ سراؤں نے بتایا ہے کہ وہ پنواں کے علاقے میں موجود ایک دربار پر رقص کے لیے گئے تھے جہاں سے انہیں اغوا کر لیا گیا۔
اغواکاروں نے ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواجہ سراؤں کے چہرے اور جسم پر تشدد کے نشانات نمایاں ہیں۔
پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے جس کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔
پاکستان میں خواجہ سراؤں کے متعلق حقارت اور جنسی تشدد کے واقعات مسلسل جاری ہیں، بہت سے خواجہ سرا قتل بھی ہو چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ پشاور میں ایک خواجہ سرا کو تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، خواجہ سراؤں کے لیے سرگرم تنظیم ٹرانس ایکشن پاکستان نے انکشاف کیا کہ 2015 کے بعد خیبرپختونخوا میں 62 خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں۔
تنظیم کے مطابق 2020 کے دوران خواجہ سراؤں پر تشدد کے 478 کیسز ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ راہ چلتے ہراسانی کے واقعات ایک معمول بن چکے ہیں۔