لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی نئی میڈیکل رپورٹ جمع کرائی گئی ہے جس میں ڈاکٹرز نے انہیں لندن میں قیام اور علاج کا مشورہ دیا ہے۔
4 صفحات پر مشتمل میڈیکل رپورٹ کے مطابق نوازشریف ہائی رسک مریضوں کی کیٹگری میں شامل ہیں، ان کے دل کے علاج کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے باعث علاج میں تاخیر ہوئی ہے تاہم جلد ہی نوازشریف کے دل کی شریانیں کھولنے کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔
اسی طرح میڈیکل رپورٹ میں ان کے پلیٹ لٹس کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ دل کی شریانیں کھولنے کے بعد ان کا علاج کیا جائے گا۔
امجد پرویز کے توسط سے جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں کنسلٹنٹ کارڈیو تھوریسک سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کے دستخط ہیں، انہوں نے نوازشریف کے بہتر علاج کے لیے انہیں لندن ٹھہرنے کا مشورہ دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ نوازشریف کا جیل میں تنہا قید ہونا ان کی حالت کو زیادہ خراب کر گیا ہے، انہیں چہل قدمی کرنے اور تھیراپی جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی گزشتہ رپورٹ میں نوازشریف کے دل کو خون کی فراہمی میں نمایاں کمی کی بات کی گئی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طبی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نےالعزيزيہ ریفرنس میں طبی بنیاد پر نوازشریف کی 2 ماہ کے لیے سزا معطل کی تھی۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک علاج کرانے کی اجازت دی تھی، نوازشریف 19 نومبر 2019 سے لندن میں رہائش پذیر ہیں۔