حکومتی دعووں کے برعکس اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائمز کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے، دارالحکومت میں موبائل فون، نقد رقم اور زیورات چھین لینے کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جن علاقوں میں ایسی وارداتیں زیادہ ہو رہی ہیں ان میں آئی نائن مرکز، آئی ٹین مرکز، سبزی منڈی، ایف ٹین، ایف الیون، شمس کالونی، بلیو ایریا، لہتراڑ روڈ، کرپا روڈ، جاپان روڈ اور غوری ٹاؤن شامل ہیں۔
ان وارداتوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑا المیہ ہے کہ پولیس ان کی ایف آئی آر درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔
بظاہر پولیس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی حقیقی شرح کو چھپا کر امن و امان کی اچھی تصویر پیش کرنا ہے۔
امریکی سفارتخانے کی ایڈوائزری
حال ہی میں امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ سیکٹر جی سکس، جی سیون، ایف سکس، ایف سیون، ایف ٹین، آئی نائن اور آئی ٹین میں سفر کے دوران محتاط رہا جائے اور قیمتی اشیاء ساتھ نہ رکھی جائیں۔
ایڈوائزری کے مطابق اسلام آباد میں ڈکیتیوں، موبائل اور پرس چھیننے کی وارداتوں کے علاوہ اسلحہ کی نوک پر گاڑیاں بھی چھینی جا رہی ہیں۔
امریکی سفارتخانہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مارکیٹ میں زیورات پہن کر نہ جائیں اور بینک کا اے ٹی ایم استعمال کرتے وقت بھی احتیاط کریں۔
اسلام آباد پولیس کا ردعمل
سفارت خانے کے انتباہ پر اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکن سفارتخانے کا بیان مفروضوں پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں گذشتہ سالوں کی نسبت سٹریٹ و دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔