صوبہ سندھ میں کورونا وبا کے باعث بند پرائمری اسکولوں سمیت تمام تعلیمی ادارے آج کھل گئے ہیں۔ چند ادارے ایس او پیز کو بہتر بنانے کے بعد یکم اکتوبر سے تعلیمی سلسلہ شروع کریں گے۔
صوبائی وزیرتعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ بچوں کو اسکول بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ والدین کریں گے۔ اسکول انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ زبردستی بچوں کو اسکول نہ بلائیں۔
جنوبی کوریا میں کورونا کی نئی لہر، اسکول، چرچ، نائٹ کلب بند
چینی بچوں کو اسکول میں داخل ہوتے وقت کن احتیاطی تدابیر سے گزرنا پڑتا ہے؟
اسلام آباد میں کورونا کیسز میں اضافہ، نجی اسکول، کالج اور یونیورسٹی سیل
ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے حکومت مکمل نگرانی کرے گی اور ان پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کو خود اسکول چھوڑنے اور واپس لانے کی ذمہ داری ادا کریں۔
یاد رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے فیصلے کے تحت حکومت مختلف مراحل میں تعلیمی ادارے کھول رہی ہے، پہلے مرحلے میں یونیورسٹی، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی کلاسز شروع کی گئی تھیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت ایک کلاس روم میں بچوں کی آدھی تعداد بٹھائی جائے گی، تعلیمی ادارہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بچے ماسک پہنے رہیں اور اپنے ہاتھ دن میں کئی بار دھوئیں۔
اگر کسی بچے میں کھانسی یا بیماری کی علامات ہوں تو والدین اسے اسکول بھیجنے سے پرہیز کریں، طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں فوری ٹیسٹ کرائیں۔
اگر کسی بچے کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ جائے تو اسکول انتظامیہ کو فوری اطلاع دی جائے۔
بچے اسکول میں کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اور اسکول میں جھولا بھی نہیں جھولیں گے۔ محکمہ تعلیم کی مختلف ٹیمیں اسکولوں کا دورہ کریں گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کاجائز لیں گی۔
یاد رہے کہ 23 ستمبر سے دوسرے مرحلے میں مڈل اسکولز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم سندھ نے اس مرحلے کو موخر کر دیا تھا جبکہ دیگر صوبوں میں مڈل اسکولز کھول دیے گئے تھے۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تیسرے مرحلے پر عملدرآمد شروع ہو گا جس کے تحت 30 ستمبر سے پرائمری و پری پرائمری اسکولز کھلیں گے۔
بلوچستان حکومت نے کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر صوبے میں پرائمری اسکول کھولنے کے فیصلے کو 15 روز کے لی مؤخر کردیا تھا۔