مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری تشدد کیس میں میں پولیس کو خاتون ایم این اے کے بعد طلال چوہدری بھی نہ ملے اور اسلام آباد پہنچ گئے۔
فیصل آباد کےاسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی ) عبدالخالق کے مطابق پولیس طلال چوہدری کا بیان لینے لاہور کے نجی اسپتال پہنچی تاہم وہ پہلے ہی اسپتال سے جا چکے تھے۔
اے ایس پی عبدالخالق کہتے ہیں کہ انہیں اسپتال عملے نے بتایا کہ طلال چوہدری کو ڈسچارج کردیا گیا ہے لیکن انہيں ڈسچارج سلپ نہيں دکھائی گئی۔
دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری کو باقاعدہ ڈسچارج کردیا ہے اور ان سے بل بھی لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری نے کہا ہے کہ طلال چوہدری لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور انہیں بلیو ایریا کے ایک اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس کی کمیٹی آج صبح خاتون ایم این اے کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے فیصل آباد میں اُن کے گھر پہنچی تو پولیس حکام کو بتایا گیا کہ ایم این اے عائشہ رجب اسلام آباد جا چکی ہیں۔
کمیٹی کے سربراہ اے ایس پی عبدالخالق کا کہنا ہےکہ بیان ریکارڈ کرنے اسلام آباد بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔
پولیس کو جھوٹی کال کے سوال پر اے ایس پی نے کا کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی سب حقائق سامنے لائیں گے، اس موقع پر انہوں نے فریقین میں صلح کرانے کی تردید کی۔
مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری پر حملے کی تحقیقات کے لیے اے ایس پی پیپلز کالونی فیصل آباد عبدالخالق کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔