لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کر لیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بے نامی اثاثوں کا الزام بے بنیاد ہے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے دن رات محنت کر کے پنجاب کے عوام کی خدمت کی ہے، ان کے خلاف کبھی بھی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکے گی۔
اورنج ٹرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اورنج لائن پراجیکٹ میں قانون اجازت نہیں دیتا تھا اس کے باوجود ہم نے بولی لگوائی جس سے 600 ملین روپے کی بچت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پروکیورمنٹ میں ہم نے پاکستان کے ایک ہزار ارب روپے بچائے، اختیارات سے تجاوز کیا ہوتا تو میرے بچوں اور عزیزوں کی شوگر ملز کو نقصان نہ ہوتا۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ سے شہبازشریف کی عبوری ضمانت میں کئی بار توسیع کی گئی تاہم اس بار ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
چند روز قبل انہوں نے پریس کانفرنس میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ حکومت انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے، انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تفصیل سے تردید کی تھی۔
نیب کی جانب سے ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے متعدد بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔
نیب کا عدالت میں موقف تھا کہ شہبازشریف کی درخواست ناقابل ضمانت ہے لہٰذا اسے مسترد کیا جائے۔
گزشتہ کئی پیشیوں کی طرح آج بھی نیب کی ٹیم عدالت میں موجود تھی تاکہ ضمانت منسوخ ہونے کی صورت میں شہباز شریف کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔
شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی ہائی کورٹ میں موجود تھے۔ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں سیکیورٹی کا جائزہ بھی لیا۔