لکھنو کی عدالت نے بابری مسجد کی شہادت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام 32 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
ملزمان پر 1992 میں بابری مسجد کو شہید کرنے اور ہندو مسلم فسادات بھڑکانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار افراد مارے گئے تھے۔
ملزمان میں لال کرشن ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور کلیان سنگھ سمیت سابق وزرائے اعلیٰ اور سینئر سیاستدان بھی شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تمام ملزمان کو سی بی آئی عدالت نے بری کیا ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد کو گرانے کا منصوبہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسجد کو سماج مخالف عناصر نے منہدم کیا تھا اور جن رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
جج نے فیصلے میں لکھا ہے کہ سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو شواہد کوئی سازش ثابت نہیں کرسکے جبکہ تقاریر کی آڈیو واضح نہیں تھی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم تصاویر کے نیگٹو پیش نہیں کرسکی جب کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ مقامی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں اس طرح کے واقعات کے تسلسل کے بارے میں پہلے آگاہ کردیا گیا تھا لیکن اسے نظر انداز کیا گیا۔
ایل کے ایڈاوانی سمیت 5 ملزمان نے ویڈیو کے ذریعے عدالت میں حاضری دی۔
مقدمے میں ابتدائی طور پر 48 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی، تین دہائیوں سے جاری اس کیس کی سماعت کے دوران 16 ملزمان انتقال بھی کر چکے ہیں۔