بلجیم کے سابق بادشاہ البرٹ دوم کی خفیہ رکھی گئی صاحبزادی قانونی جنگ جیت کر شہزادی کا لقب حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
ڈیلفین بوئل گزشتہ 7 سالوں سے سابق بادشاہ کو اپنے حیاتیاتی باپ کے طور پر تسلیم کرانے اور شاہی خطاب کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی تھیں۔
برسلز کورٹ آف اپیل نے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ڈیلفین بوئل کو بادشاہ کے باقی 3 بچوں کی طرح شاہی مراعات دینے کا حکم دیا ہے جب کہ انہیں پرنسس آف بلجیم بھی تسلیم کر لیا ہے۔
یاد رہے 52 سالہ مجسمہ ساز ڈیلفین بوئل نے 2013 میں سابق بادشاہ پر مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں اپنی بیٹی تسلیم کرنے کا کہا تھا۔
ڈیلفین نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابق بادشاہ کے ان کی ماں کے ساتھ تعلقات تھے۔
بادشاہ البرٹ دوم 7 سال تک ڈیلفین کے الزامات کو مسترد کرتے رہے، اس دوران برسلز کورٹ آف اپیل کی جانب سے ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ جمع کرانے کے حکم میں بھی تاخیر کرتے رہے۔
گزشتہ سال مئی میں عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ جمع نا کرانے کی صورت میں سابق بادشاہ پر روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزار یورو جرمانہ عائد کر دیا تھا۔
رواں سال جنوری میں سابق بادشاہ نے تسلیم کیا کہ وہ ڈیلفین بوئل کے بائیلوجیکل باپ ہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد ڈیلفین اپنے نام کے ساتھ شاہی خطاب سیکس کوبرگ لگائیں گی جس کے بعد ان کے بچے بھی پرنس اور پرنسس آف بلجیم کا خطاب پا سکیں گے۔
ڈیلفین بوئل کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایک لمبے سفر کے بعد وہ اپنا دائر کردہ مقدمہ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں، اس دوران انہیں اور ان کے گھر والوں کو کافی تکلیف برداشت کرنی پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں جیت ایک باپ کے پیار کا نعم البدل نہیں ہو سکتی لیکن اس سے انصاف کو ضرور تقویت ملے گی۔