یورپ میں کورونا کی وبا کے دوران سائیکلنگ سے متعلق سرمایہ کاری میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران سائیکلنگ سے متعلق انفراسٹرکچر میں ایک ارب یورو کی سرمایہ کاری کی گئی جب کہ کورونا کے آغاز سے اب تک بائیک یا سائیکل چلانے والوں کے لیے 23 سو کلومیٹر علیحدہ راستے بنائے گئے۔
برسلز میں واقع یورپی سائیکلنگ فیڈریشن کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کے بعد سائیکلنگ ایک بڑی جیت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں چار اہم شہروں میں سائیکلنگ کے انفراسٹرکچر پر کی جانے والی سرمایہ کاری کا جائزہ بھی لیا گیا۔
میلان میں شہری منصوبہ بندی کے ڈپٹی مئیر پائیرفرانسسکو کا کہنا تھا کہ جب ہم نے میلان میں سائیکلنگ کے لیے الگ راستے بنانے چاہے تو کار ڈرائیورز نے احتجاج کیا۔
ڈپٹی مئیر کا کہنا تھا کہ کورونا سے قبل میلان میں ایک ہزار سائیکلسٹ تھے، کئی لوگ سائیکلنگ کے راستے نا ہونے کی وجہ سے لوکل گاڑیوں پر سفر کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے بعد یہاں سائیکل چلانے والوں کی تعداد سات ہزار ہو چکی ہے۔
یاد رہے شمالی اٹلی کا صنعتی مرکز کہلانے والا شہر میلان یورپ کا پہلا شہر ہے جہاں سائیکلنگ کے شعبے میں پہلی بار سرمایہ کاری کی گئی۔
یہاں 35 کلومیٹر نئے سائیکلنگ کے راستے بنائے گئے ہیں جن میں چند عارضی طور پر کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سائیکلنگ کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کے بعد سائیکل بنانے والی کمپنیاں کچھ دباؤ کا شکار ہوں گی۔
سائیکل تیار کرنے والی ایک کمپنی کے رکن ایلیسنڈرو کا کہنا تھا کہ رواں سال مئی میں سائیکلوں کی اچانک مانگ کی وجہ سے ان کا کاروبار چمک اٹھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض دفعہ ہمارے لیے بائیک تیار کرنا مشکل ہو جاتا تھا کیونکہ کورونا وبا کے بعد کئی پارٹس ملنا مشکل ہو گیا تھا۔
دوسری جانب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں میلان جیسے شہروں کے لیے کافی نہیں ہیں۔
ماحولیاتی وکیل اینا کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ کے لیے کئی نئے پاتھ بنائے گئے ہیں لیکن اس شہر کے لوگوں کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ اقدامات نا ہونے کے برابر ہیں۔
انہوں نے انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔