کراچی میں مبینہ طور پر پولیس سے ہاتھا پائی کرنے پر ن لیگی رہنما نہال ہاشمی کو دو بیٹوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں کے خلاف قتل کی دھمکیاں دینے اور کارسرکار میں مداخلت سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ نہال ہاشمی کے بیٹوں کا ایک شہری سے جھگڑا ہوا جس کی اطلاع ملنے پر ایس ایچ او سعود آباد موقع پر پہنچے تو نصیر نہال نے انہیں گالیاں اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
پولیس انہیں تھانے لے آئی تو نہال ہاشمی اور ان کے اہلخانہ بھی وہاں پہنچ گئے اور اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے بیٹے نے پولیس اہلکار کو گردن سے پکڑا ہوا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نہال ہاشمی کے بیٹوں نے اہلکاروں کو تھپڑ مارے، ان پر تشدد کیا اور وردیاں پھاڑ دیں۔
نہال ہاشمی کا موقف ہے کہ ان کے بیٹوں کی گاڑی سے موٹرسائیکل سوار کی ٹکر ہو گئی جس کے بعد جھگڑا شروع ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اطلاع ملنے پر تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں بھی گرفتار کر کے حوالات میں بند کردیا۔انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اہلکاروں نے گھروالوں کو روک ان کے قریب آنے کی کوشش کی جس پر جھگڑا ہوا، ان کا کہنا ہے کہ پولیس والوں نے میرا موبائل فون بھی توڑدیا۔