یہ کہانی انسٹاگرام پر ایک گمنام اکاؤنٹ کے ذریعے کی گئی پوسٹ سے شروع ہوتی ہے جس میں مصر کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنے اور انہیں بلیک میل کرنے والے ایک پروفیسر کا ذکر تھا۔
انسٹا گرام کی اس پوسٹ کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہوئی اور اس اکاؤنٹ کو دیکھتے ہی دیکھتے 70 ہزار فالورز مل گئے جنہوں نے پروفیسر کا کردار عیاں کرنے والے اکاؤنٹ کے مالک کی بھرپور تعریف کی۔
انسٹا گرام کی اس پوسٹ پر بےشمار خواتین نے اپنے تجربات بیان کرنے شروع کر دیے جن میں انہیں جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مصر میں بھی می ٹو کی تحریک کا آغاز ہو گیا۔
بعد میں یہ معلوم ہوا کہ اس انسٹاگرام اکاونٹ کی مالک 22 سالہ ندین اشرف ہیں جو قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں موجود خواتین کو ہراساں کرنے والے عناصر کو بے نقاب کرنے میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ندین نے ایک روز فیس بک پر ایک دوست کی پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا جو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرتا تھا، پوسٹ میں لکھا گیا تھا کہ یہ شخص کیمپس میں موجود خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرتا ہے۔
ندین نے دیکھا کہ فیس بک پوسٹ کو بغیر کسی وضاحت کے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ ندین اشرف نے غصے میں آکر اپنی کتابیں ایک طرف رکھیں اور انسٹاگرام اکاونٹ بنا دیا، ازالٹ پولیس کے نام سے بنائے گئے اس اکاونٹ میں ندین نے احمد بسام زکی نامی اس شخص کو بے نقاب کیا جو کیمپس میں خواتین کو ہراساں کرتا تھا۔
ندین نے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احمد بسام زکی کی تصویر اور ان کے جرائم کی تفصیل بھی لکھی۔
ندیم نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ شخص کافی عرصے سے یونیورسٹی میں موجود خواتین کو ہراساں کر رہا ہے، جیسے ہی کوئی اس کے خلاف بولنے کی کوشش کرتا ہے یہ اسے خاموش کرا دیتا ہے۔
اگلی صبح جب ندین جاگی تو ان کے انسٹاگرام اکاونٹ کے ہزاروں فالوورز تھے۔ انہیں ہزاروں ایسے نوٹیفیکیشنز موصول ہوئے جنہوں نے ان کی پوسٹ کو سراہا تھا جب کہ 30 سے زائد مختلف خواتین کی جانب سے پیغامات تھے جنہیں احمد زکی نامی شخص کی جانب سے ہراساں کیا گیا تھا۔
تقریباً ایک ہفتے کے اندر احمد زکی کو گرفتار کر لیا گیا، جب کہ ازالٹ اکاونٹ کے فالوورز کی تعداد ستر ہزار سے تجاوز کر گئی۔
یکم ستمبر کو حکام کی جانب سے احمد زکی پر خواتین کو ہراساں کرنے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور بلیک میل کرنے کے چارجز لگائے گئے۔
ندین اشرف کی اس کوشش نے مصر میں ہیش ٹیگ کے ساتھ می ٹو تحریک کی بنیاد ڈالی۔
یاد رہے مصر میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013 میں تقریباً ۹۹ فیصد خواتین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں جنسی ہراسگی اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق خواتین کا موقف تھا کہ مصر میں ایسے واقعات کو رپورٹ کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔
خواتین کا کہنا تھا کہ پولیس آفیسر ایسے واقعات کی شکایت یا ایف آئی آر درج کرنے ہچکچاتے ہیں۔
دوسری جانب ان واقعات کا شکار ہونے والی خواتین کے گھر والے بھی بدنامی کے ڈر سے کسی سے ذکر نہیں کرتے۔
لیکن ندین اشرف کے انسٹاگرام اکاونٹ نے ایسی خواتین کے لیے ایک نئی راہ کھولی ہے۔
ایک انٹرویو میں ندین اشرف کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت اچھا تجربہ رہا، ان سے کافی زیادہ خواتین رابطہ کرتی ہیں۔ خواتین کوبالاخر کوئی ایسا ملا ہے جو ان کی آواز کو بلند کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ کافی وقت کے عورت کے بااختیار ہونے کا احساس اجاگر ہوا ہے۔
بائیس سالہ ندیم اشرف کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے جو قاہرہ کے مشرق میں مقیم ہیں۔ ان کے والد ایک سافٹ ویئر کمپنی کے مالک ہیں جب کہ ان کی والدہ ماہر غذائیت ہیں۔