امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 دن ملٹری اسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد وائٹ ہاوس پہنچنے پر چہرے سے ماسک اتار دیا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسپتال سے وائٹ ہاوس پہنچنے پر انہوں نے اپنے ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں امریکی عوام کو کورونا سے نا ڈرنے کی ہدایت کی۔
کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 3 دن اسپتال میں زیر علاج رہنے والے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہترین علاج معالجے کی سہولیات اور ادویات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال میں چند دن رہنے کے بعد مجھے کورونا کے بارے میں کافی معلومات ملی ہیں، اس بیماری کو اپنے ذہنوں پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 10 لاکھ افراد اور امریکہ میں 2 لاکھ سے زائد افراد کی جان لینے والی بیماری کو اہمیت نا دینے پر سوشل میڈیا صارفین نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
وائٹ ہاوس آمد پر چہرے سے ماسک اتارنے اور امریکیوں کو بار بار کورونا سے نا ڈرنے سے تلقین کرنے پر کچھ ماہرین صحت نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
وینڈربلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے پروفیسر ولیم شیفنر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی کورونا سے نا ڈرنے والی تلقین نے مجھے حیرت زدہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ بیماری ہے جو ایک دن میں ہزاروں لوگوں کی جان لے رہی ہے، جو معیشت کو تباہ کر رہی ہے اور لوگوں کا روزگار چھین رہی ہے۔
ولین شیفنر کا کہنا تھا کہ اس بیماری کو سنجیدہ بھی لینا چاہیے اور اس سے ڈرنا بھی چاہیے۔
دوسری جانب سیاسی شخصیات نے صدر ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سینیٹر کرس کونز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ یہ بیان ہماری لیڈرشپ کی افسوسناک ناکامی ہے۔
وائٹ ہاوس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے صدر ٹرمپ اور ان کے گھر والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سارے حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ صدر وائٹ ہاوس میں سماجی فاصلہ برقرار رکھیں گے اور ان کے قریب رہنے والے افراد مکمل ایس او پیز کے تحت کام کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔