بلیک ہولز دریافت کرنے والے 3 سائنسدانوں کو سال 2020 کا نوبل انعام برائے فزکس دیا گیا ہے۔
ایوارڈ حاصل کرنے والے سائنسدانوں میں راجر پنروز، رینہرڈ گینزل، اینڈریا گیز شامل ہیں۔ اینڈریا گیز نوبل فزکس ایوارڈ حاصل کرنے والی چوتھی امریکی خاتون ہیں۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنس کے سیکرٹری گورن کے ہنسون کا کہنا تھا کہ اس سال کا نوبل انعام کائنات کے پوشیدہ رازوں سے متعلق تھا۔
اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ کام کرنے والے راجر پنروز یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پروفیسر ہیں، انہوں نے دکھایا کہ بلیک ہولز ایک مجسم حقیقت ہیں، جو آئن اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹویٹی“ یا ”عمومی نظریہ اضافیت کو ثابت کرتا ہے۔
گینزل اور گینز نے کہکشاں کے عین مرکز میں بلیک ہولز دریافت کیے ہیں۔
یونیورسٹی آف یارک کے پروفیسر ٹام میکلس نے سائنس میڈیا سنٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان تینوں سائنسدانوں نے ہمیں دکھایا کہ ہے کہ بلیک ہولز ایک حقیقت ہیں اور ہماری کائنات میں شان کے ساتھ موجود ہیں۔
ایوارڈ حاصل کرنے والی خاتون اینڈریا گینز امریکی ریاست نیویارک میں پیدا ہوئیں اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پروفیسر ہیں۔
وہ فزکس کے شعبے میں نوبل ایوارڈ حاصل کرنے والی چوتھی خاتون ہیں۔ اس سے قبل ڈونا اسٹرک لینڈ کولیزر فزکس پر کام کرنے کی وجہ سے 2018 میں فزکس نوبل ایوارڈ دیا گیا تھا جو اس شعبے کا پہلا ایوارڈ تھا۔
ایوارڈ کا اعلان کیے جانے بعد اینڈریا گینز کا کہنا تھا کہ آج میں اپنے استاد ہونے پر بہت پرجوش ہوں، کیونکہ اپنی نوجوان نسل کو اس بات پر قائل کرنے کی بہت ضرورت ہے اور ان کی سوچنے کی اہلیت اور سوال کرنے کی اہلیت اس دنیا کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ایوارڈ وصول کرنے کے لیے بہت پرجوش ہوں کیونکہ میں فزکس ایوارڈ حاصل کرنے والی چوتھی خاتون ہوں اور اب مجھے اپنے شعبے سے متعلق ذمہ داریوں کا احساس زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ ایوارڈ اس شعبے میں کام کرنے والی دیگر خواتین کو متاثر کرے گا۔