دنیا بھر میں ہزاروں افراد ذہنی بیماریوں کا شکار ہو کر قید تنہائی میں زندگی گزارتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 60 ممالک میں ذہنی معذوری کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
تنظیم کے مطابق ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی نا ہونے کی وجہ سے ان افراد کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ انہیں کھانے، سونے، بیٹھنے حتیٰ کہ حاجات ضروریہ کے لیے بھی باقاعدہ جگہ نہیں دی جاتی۔
10 اکتوبر کو منائے جانے والے ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ نے تقریباً 800 افراد کے انٹرویوز کیے جن میں بتایا گیا کہ نائجیریا اور میکسیکو جیسے علاقوں میں ذہنی بیماریوں سے متاثر افراد کو کیسے درختوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے، ایسے افراد کی تمام زندگی بعض اوقات پنجروں میں بند ہو کر گزر جاتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایک سینئر عہدیدار کریتی شرما کا کہنا تھا کہ ذہنی معذور افراد کے ساتھ ایسا سلوک دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک میں ذہنی طور پر معذور افراد کو سحرزدہ یا کسی گناہ کو ان کی حالت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
میکسیکو اور کئی دوسرے ممالک کی وزارت صحت نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ سے متعلق ای میلز کا جواب نہیں دیا جبکہ نائجیرین وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے رپورٹس نہیں دیکھی۔
یاد رہے گزشتہ سال نائجیرین حکام کے منشیات اور ذہنی امراض کے لیے بنائے گئے اسلامی بحالی مرکز پر مارے گئے چھاپے نے پوری دنیا کو متوجہ کیا تھا، رپورٹس کے مطابق بحالی مرکز میں لڑکوں اور مردوں کو زنجیروں میں جکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ جب کہ مرکز میں لڑکوں پر جنسی تشدد کی رپورٹس بھی موصول ہوئی تھیں۔
کریتی شرما کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنے پیاروں کو اس لیے بھی زنجیروں میں باندھ دیتے ہیں کہ وہ بھاگ نا جائیں یا خود کو نقصان نا پہنچائیں۔
کینیا سے تعلق رکھنے والے پال نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ میں 5 سالوں سے زنجیروں میں بندھا ہوا ہوں اور یہ زنجیریں اتنی بھاری ہیں کہ بعض دفعہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا۔
پال نے بتایا کہ میں دیگر 7 آدمیوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا ہوں۔ ہمیں کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہوتی، ہم صرف تہہ بند باندھتے ہیں۔
پال نے بتایا کہ مجھے صبح ناشتے میں دلیہ کھانے کو ملتا ہے اور جس دن میری قسمت اچھی ہو رات کے کھانے میں روٹی بھی مل جاتی ہے۔