ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کنوینیر نور عالم کی زیر صدارت ہوا جس میں صرف خواجہ آصف نے شرکت کی۔ دیگر ارکان کمیٹی سید نوید قمر، اقبال محمد علی خان، شاہدہ اختر علی اور سینیٹر سید شبلی فراز اجلاس سے غیر حاضر رہے۔
جب ذیلی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو سیکرٹری کامرس موجود نہیں تھے۔ کنوینیر کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ہم سیکرٹری کے علاوہ بریفنگ نہیں لیتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکرٹری کامرس وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گئے ہیں وہاں سے فارغ ہو کر کمیٹی میں آئیں گے۔
تھوڑی دیر کے بعد صالح احمد فاروقی سیکرٹری کامرس کمیٹی میں آ گئے۔ اسٹیٹ لائف کے چیئرمین کراچی سے اسلام آباد پہنچ آئے تھے مگر ان کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی جس کی وجہ سے وہ ہسپتال چلے گئے۔ کمیٹی نے چیئرمین اسٹیٹ لائف کی عدم شرکت کی وجہ سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے متعلقہ پیرے لینے سے انکار کر دیا۔
کمیٹی میں آڈٹ حکام کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹیڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 2016ء میں اپنی فیس 50 ہزار فی میٹنگ سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی اور اس کے بعد ایک سال میں بورڈ کی 45 میٹنگز کی گئیں۔
2014ء میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 6 میٹنگز ہوئی تھیں۔ 2015ء میں 25 سے زائد بورڈ آف ڈائریکٹرز اور دیگر میٹنگز ہوئی تھی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان کا سی ای او نہیں ہے۔
وزارت تجارت حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ صرف بورڈ زکی میٹنگ نہیں تھیں، ان میں ایچ آر،انڈرائٹنگ، رسک مینجمنٹ، ری انشورنس کے علاوہ دیگر کمیٹی کی میٹنگز بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کو سیکرٹری کامرس کی جانب سے بتایا گیا کہ اگلے سال بورڈ آف ڈائریکٹرز کی فیس کم کر کے آدھی کر دی گئی تھی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بطور رکن کمیٹی پی اے سی کی ایک میٹنگ کا 8 ہزار روپے ملتا ہے۔ پوری قوم با جماعت ہو کر گالیاں بھی دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم عزت بھی دیتی ہے اور وقتاً فوقتاً گالیاں بھی کھاتے ہیں۔
کنوینیر کمیٹی نور عالم نے کہا کہ جتنی بھی میٹنگز ہوئی ہیں ان میں جو اضافی 50 ہزار روپے وصول پائے گئے تھے ان کی ریکوری کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر میٹنگ کا ایجنڈا بھی دیکھا جائے؟
خواجہ آصف نے کہا کہ ایسی ایسی آرگنائزیشن ہیں جو برازیل اور پیرس جا کر میٹنگ کرتی ہیں اور 40 ہزار ڈالرز تک وصول کرتے ہیں۔ نیب ذرا ان کی بھی انکوائری کر لے۔ وہاں نیب کے پر جلتے ہیں۔ نیب صرف سیاستدانوں کے پیچھے ہے۔ میرے والد نے جو گھر بنایا تھا میں اس کا بھی حساب دے رہا ہوں۔
جب کمیٹی نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ناموں کی تفصیل طلب کی تو کمیٹی کوبتایا گیا کہ ممتاز علی پرائیویٹ ممبر ہیں جو بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ صدیق میمن، عبدالسمیع، توفیق حیدر کے علاوہ دیگر چند لوگ بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔
کمیٹی کو فراہم کی گئی دستاویزات کے مطابق کمپنی کا منافع 1ارب 38کروڑ روپے سے کم ہو کر ساڑھے 98 کروڑ روپے ہو گیا تھا۔ کمپنی کا منافع 2015ء کی نسبت 2016ء میں 29 فیصد کم ہوا۔ منافع میں کمی کی اہم وجہ اخراجات میں اضافہ تھا۔ کمپنی کو کرایوں کی آمدن میں 200 فیصد اضافہ کے باوجود مجموعی منافع میں کمی کا سامنا رہا۔
کمیٹی کو فراہم کی گئی دستاویزات میں محکمہ کی جانب سے بتایا گیا کہ 2019ء میں کمپنی کا منافع بڑھ کر ایک ارب اورساڑھے 48 کروڑ روپے ہو گیا تھا۔