عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین ممکنہ طور پر رواں سال کے آخر تک تیار ہو جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سربراہ عالمی ادارہ صحت ٹیڈروس ایڈہانوم نے وبا سے متعلق ایگزیکٹو بورڈ کے 2 روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ویکسینز کی ضرورت ہو گی، امید ہے کہ 2020 کے آخری مہینے تک یہ دستیاب ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں اس وائرس کے خلاف جنگ لڑنے میں صرف کرنی ہوں گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسیز ڈائرکٹر مائیکل ریان نے ایگزیکٹو بورڈ کے خصوصی اجلاس میں بتایا تھا کہ اندازاً دنیا کی 10 فیصد آبادی کورونا میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اس وقت کرہ ارض پر 7 ارب 80 کروڑ افراد بستے ہیں جن کا 10 فیصد 78 کروڑ بنتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انفیکشن مختلف سطحوں پر پھیل رہا ہے، یہ شہروں میں تباہی پھیلا کر دیہی علاقوں کی طرف رخ کر چکا ہے اور مختلف قسم کے گروہوں میں پھیل رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا مطلب ہے دنیا کی آبادی کی اکثریت ابھی تک خطرے کی زد میں ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ٹیدروس ایڈہانوم نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ یہ وبا ہمیں خواب غفلت سے جگا رہی ہے، ہمیں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم اس سے بہتر کیا کچھ کر سکتے ہیں؟
ٹیڈروس نے کہا کہ ہم نے مختلف ممالک کی نئے خیالات سامنے لانے میں حوصلہ افزائی کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو بورڈ میں 34 مختلف ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے جنہیں 3 سال کے دورانیے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔