امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا امدادی بل پر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد اس بل پر بات چیت کا آغاز کریں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد یہ بڑا بل پاس کر دیں گے۔
امریکی معیشت کورونا وبا سے شدید متاثر ہوئی ہے، بیروزگاری عروج پر ہے جبکہ کاروبار بھی مندے کا شکار ہیں، ایسے وقت میں کھربوں ڈالرز کا امدادی پیکج معاشی بحالی میں مدد دے سکتا ہے۔
وائیٹ ہاؤس 1600 ارب ڈالرز کا امدادی پیکج دینا چاہتا ہے جبکہ کانگریس کی اسپیکر نینسی پیلوسی چاہتی ہیں کہ اسے بڑھا کر 2200 ارب ڈالرز تک لایا جائے۔
دوسری جانب صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے امریکی صدر کے اس اقدام کو امریکی باسیوں کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے بتا دیا ہے کہ اگر آپ کا روزگار چھن گیا، اسکول بند ہو گئے ہیں یا کاروبار متاثر ہوا ہے تو حکومت سے کسی قسم کے ریلیف کی توقع مت رکھیں۔
مزید برآں ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کے اسٹاف اور ری پبلکن سینیٹرز میں بھی یہ وبا پھیل رہی ہے۔ امریکی افواج کے اعلیٰ ترین عہدیدار بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 77 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ دو لاکھ سے زائد مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔