• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں اراکین کی نیب پر شدید تنقید

by sohail
اکتوبر 7, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں رکن کمیٹی نور عالم خان نے سوال اٹھایا کہ نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کتنے سیاستدانوں، بیورو کریٹس، جرنیلوں اور ججوں کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتساب ہو گا تو پھر سب کا ہو گا۔ ہم اپنی نشستوں کے لیے اپنی عزت کو خراب کر تے ہیں۔

رکن کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ خواجہ آصف صاحب نے کمیٹی میں ابھی بتایا ہے کہ میری بھی حاضری ہو گئی ہے۔ سینیٹر طلحہ نے عاصم باجوہ کے حوالے سے سوال کیا جس پر چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ عاصم باجوہ کا وزیراعظم نے خود کہہ دیا ہے کہ وہ کلین ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ پھر چلتے ہیں ہم یہاں کیوں اور کس لیے بیٹھے ہیں؟ چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ جو معاملہ نور عالم نے اٹھایا ہے اس پر نیب سے ایک تفصیلی بریفنگ لیتے ہیں۔

پاکستان پوسٹ آفس

اجلاس میں سیکرٹری مواصلات ظفر حسن نے بریفنگ  دیتے ہوئے بتایا کہ فیٹف نے جو 40 سفارشات دی تھیں ان میں 13 سفارشات پاکستان پوسٹ آفس سے متعلق تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پوسٹ آفس ابھی تک مینوئل سسٹم پر چل رہا ہے۔ ذرائع بھی نہیں ہیں۔ پاکستان پوسٹ آفس کے پاس اتنی صلاحیت نہیں تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے اخبارات میں اشتہارات دیے۔ حبیب بینک اور یو بی ایل کو شارٹ لسٹ کیا اور آخر میں حبیب بینک کے ساتھ معاہدہ ہو گیا۔

سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ ایگری منٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو معاہدہ کی جانچ پڑتال کا حکم دیتے ہوئے پٹیشن نمٹا دی تھی۔

سیکرٹری مواصلات ظفر حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ اوریجنل ایگری منٹ میں جو چیزیں رہ گئی تھیں ان کو بھی دوبارہ دیکھ رہے ہیں۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ 30ستمبر تک ڈیڈ لائن تھی۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ ڈیجیٹلائز کرنے پر تو کسی کو اعتراض نہیں مگر جہاں جہاں بھی آؤٹ سورس کیا ہے اس میں بہت ساری چیزیں نکلی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جن مقاصد کے لیے آؤٹ سورس کیا جاتا ہے وہ مقاصد بھی حاصل نہیں ہو سکے۔

رکن کمیٹی ایاز صادق نے سوال کیا کہ کیا ایگریمنٹ ہو گیا ہے؟ سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ ایگری منٹ 3 جون 2020 کو ہو گیا تھا۔ جس کے بعد ایاز صادق نے سوال کیا کہ جو ایگری منٹ  وزارت قانون کی طرف سے ”ویٹ“ کیا گیا تھا اس کے ساتھ منسلکہ نہیں تھے مگر جس ایگری منٹ پر سائن کیے گئے اس میں منسلکہ شامل تھے۔

ایاز صادق نے کہا کہ کیا اس میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی نہیں ہوئی؟ انہوں نے مزید کہا کہ کیا نیب آرڈیننس کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے؟ ایاز صادق نے کے کہا کہ 120 ارب روپے کا معاہدہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر کیا گیا۔

آڈیٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان پوسٹ آفس اور حبیب بینک کے درمیان کیے گئے معاہدے میں گورننس، ٹرانسپرنسی کے مسائل سامنے آئے ہیں۔

سابق اسپیکر اور رکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ایاز صادق نے سوال کیا کہ کیا کابینہ سے منظوری لی گئی تھی؟

ایاز صادق نے نیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو تو یہ معاملہ بھیجنا ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں بیٹھے ہوئے کسی سیاستدان جہانگیر ترین، خواجہ آصف، نور عالم خان یا میرا نام ہو تو نیب فوری ایکشن لے لیتا ہے مگر اداروں کی طرف سے کی گئی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے باوجود خاموش رہتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے بھی نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں کیا کرنے آتے ہیں؟ جس پر رکن کمیٹی نے کہا کہ نیب یہاں ہماری باتیں سننے آتا ہے۔ ایاز صادق نے کہا کہ نیب از خود نوٹس بھی لے سکتا ہے جس پر رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ یہ طاقت ان کو نہ دیں۔

رکن کمیٹی خواجہ آصف نے کہا کہ جو نیب سے بچے ہوئے ہیں ان کو بچا رہنے دیں۔

ایاز صادق نے پوسٹ آفس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کر حبیب بینک کو دے دیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنسلٹنٹ نے ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بنا دی ہے۔

ایاز صادق جو دستاویزات اپنے ساتھ لائے تھے انہوں نے ایک کاپی چیئرمین کمیٹی اور ایک آڈیٹر جنرل کو فراہم کر دی۔ رکن کمیٹی نور عالم نے جب کاپی مانگی تو ایاز صادق نے کہا کہ چیئرمین کمیٹی کو کاپی دے دی ہے وہ مزید کاپیاں کرا کے تمام ممبران کو فراہم کر دیں گے۔

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے ایاز صادق سے کہا کہ ایک کاپی سیکرٹری مواصلات کو بھی فراہم کر دیں جس پر ایاز صادق نے کہا کہ میں نے ایک کاپی چیئرمین کمیٹی اور ایک کاپی آڈیٹر جنرل کو دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے فوٹو کاپی پر کافی خرچہ کر لیا ہے جس پر کمیٹی میں ایک جاندار قہقہہ لگا۔

ایاز صادق نے کمیٹی کو بتایا کہ جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کے مطابق جرمانہ حبیب بینک کو نہیں، پوسٹ آفس کو لگے گا۔ یہ بھی انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کر دے دیے ہیں۔

سید نوید قمر نے کہا کہ ہائیکورٹ کے بھی احکامات ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لیے بھی آڈیٹر جنرل ایک تفصیلی رپورٹ تیار کریں۔

خواجہ آصف نے سیکرٹری مواصلات ظفر حسن سے سوال کیا کہ ایاز صادق نے جو کہانی بیان کی ہے۔ یہ کاروائی آپ کے آنے سے پہلے ہوئی ہے؟ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جو شخص آج کل پنجاب میں چیف سیکرٹری لگا ہوا ہے کیا انہوں نے یہ شروع کیا تھا؟

سیکرٹری مواصلات ظفر حسن نے کہا کہ 180ارب روپے کی سرمایہ کاری ہو گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس کو آؤٹ سورس کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو قوانین بننے جا رہے ہیں اس کا فیٹف میں استعمال نہیں ہونا تھا۔ ان قوانین کو استعمال کر کے ہمیں اندر کرنا تھا۔ انہوں نے سیکرٹری مواصلات ظفر حسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں مگر سابق سیکرٹری مواصلات کو بلوائیں۔

خواجہ آصف نے چیئرمین کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا سابق سیکرٹری مواصلات سے آپ کا کوئی تعلق تو نہیں ہے؟ چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ سابق سیکرٹری مواصلات کا سب سے ہی تعلق ہے۔ وہ سیکرٹری قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ ارکان کمیٹی جب کہیں گے بلوا لیں گے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حبیب بینک اور پاکستان پوسٹ آفس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے ابتدائی طور پر ہم پیرا ایشو کر چکے ہیں۔ جو دستاویزات ابھی ملی ہیں ان کو دیکھ لیتے ہیں اور 15 دنوں میں رپورٹ پیش کر دیں گے۔

سیکرٹری مواصلات نے کہا کہ ہم آڈیٹر جنرل کو ڈیٹا فراہم کر دیتے ہیں۔ سیکرٹری مواصلات نے مزید کہا کہ پاکستان کا کوئی پیسہ اس میں شامل نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دعوت گناہ تو دے رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 15 دنوں میں مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ رکن کمیٹی ایاز صادق نے کہا کہ کسی سیکشن افسر پر ذمہ داری نہ ڈال دیں۔

Tags: پاکستان پوسٹ آفسپبلک اکاؤنٹس کمیٹیقومی احتساب بیورو
sohail

sohail

Next Post

کیمسٹری کا نوبیل انعام 2 خواتین نے جیت لیا

ٹیکنالوجی کی 4 بڑی کمپنیوں نے کس طرح اپنی طاقت کو ناجائز استعمال کیا؟

مریم نواز، فضل الرحمان ملاقات، سیاسی امور پر بات چیت

چارسدہ میں ڈھائی سالہ زینب زیادتی کے بعد قتل

سپریم کورٹ: میرشکیل الرحمان کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In