پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کی اور ملکی سیاسی امور پر بات چیت کی۔
اس موقع پر مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کرتے ہوئے ان کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے صدر کا منصب سنبھالنے پر انہیں مبارکباد بھی دی۔
ملاقات میں مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، سعد رفیق اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
مولانافضل الرحمان کے ہمراہ وفد میں جے یو آئی ف کے مرکزی نائب امیرمولانا یوسف،مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا امجدخان اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل شاہ اویس نورانی بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ عوام پی ڈی ایم کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ انہیں اور وطن عزیز کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے۔ سلیکٹڈ عوام دشمن حکومت سے نجات ہی ملک وقوم کے لئے سب سے بڑا ریلیف ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف ضمیر اور وفا کے قیدی ہیں، انہیں نوازشریف کا بھائی ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ سیاستدان ہیں۔ یہ ذمہ داری بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ قائد محمد نوازشریف محافظ دستور بن کر سامنے آئے ہیں، عوام سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا کہ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کریں۔ یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ وہ اپنا قائد، اپنا راہنما اور اپنا وزیراعظم کسے بنائیں۔
مریم نواز نے کہا کہ آج معیشت تباہ ہے، عوام تاریخ کی بدترین مہنگائی کا شکار ہیں۔ آٹا، چینی، خوراک، بجلی اور گیس سمیت ہر چیز مہنگی ہے جس نے عوام کا جینا حرام کردیا ہے۔ تعلیم اور صحت تو دور کی بات ہے، عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج سقوط کشمیر ہو چکا ہے اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ آزاد جموں وکشمیر کے منتخب وزیراعظم پر لاہور میں غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ کشمیریوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
آزادی صحافت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی طرح پیمرا کو استعمال کیاجا رہا ہے ۔ ان سب اوچھے ہتھکنڈوں کا ایک ہی مطلب ہے کہ سچ کوئی نہ بولے۔ سر کوئی نہ اٹھائے۔ حق بات کوئی نہ کرے۔
ملاقات میں پی ڈی ایم کے جلسوں میں مرحلہ وار شدت لا کر حکمرانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے پر اتفاق ہوا۔