اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں 83 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا۔
نیپرا حکام کا کہنا ہے ککہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔
اس اضافے کا اطلاق رواں ماہ سے صارفین کے بلوں پر ہو گا جس کی وجہ سے اکتوبر کے دوران صارفین پر10 ارب روپے سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا۔
نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق لائف لائن کے علاوہ تمام صارفین پر ہو گا، یہ اضافہ جولائی 2020 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے پرممبر سندھ نیپرا نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ میرٹ آرڈرکے خلاف پاورپلانٹ چلانے کا بوجھ صارفین پر ڈالا جارہا ہے۔
بجلی کی قیمت میں اضافے پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کرپٹ ٹولے نے آج 83پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کر دی اور عوام کی جیبوں پر 10ارب روپے کا ڈاکا ڈالا گیا ہے
وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ سابق حکومتوں کے معاہدوں کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوتی ہے
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے اختتام پر نیپرا نے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت ایک روپے 62 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اضافے کا فیصلہ اکتوبر2019 سے مارچ 2020 کے عرصے کے لیے جاری کیا گیا۔