اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سندھ حکومت پر جرمانہ عائد کر دیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ جرمانہ اس وقت عائد کیا جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مہلت کی استدعا کی جسے مسترد کرتے ہوئے عدالت نے غیرضروری التوا پر سندھ سے آنے والے دو وکلاء کے سفری اخراجات حکومت سندھ کو دینے کا حکم دیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم دیا کہ حکومت سندھ اگلی سماعت سے قبل وکیل امداد علی اور ضمیر اللہ کو 50، 50 ہزار روپے سفری اخراجات کے طور پر ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں وکلاء حیدرآباد اور سندھ سے اسلام آباد آئے ہیں، انہیں آمدورفت کے اخراجات ادا کیے جائیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ تحریری جواب کی کاپی جمع نہیں کرا سکے اس لیے یہ جرمانہ کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے ہونے والی سماعت پر بھی عدالت نے حکم دیا تھا کہ فریقین حاضری یقینی بنائیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے دو دن کی مہلت دینے کی استدعا کی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس التوا کا اختیار نہیں ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی۔