اس سال کیمسٹری کا نوبیل انعام دو خواتین نے جیت لیا ہے جنہوں نے زندگی کا کوڈ تبدیل کر کے دوبارہ لکھنے کا طریقہ دریافت کیا تھا۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی سیکرٹری جنرل گورن کے ہنسون کا کہنا تھا کہ اس سال کیمسٹری کے شعبے نوبیل انعام زندگی کے کوڈ کو دوبارہ لکھنے پر دیا گیا ہے۔
ایمانوئل کارپینٹیئر اور جینیفر دودنا کو جینز کے کوڈ میں تبدیلی کے طریق کار میں مزید پیش رفت سامنے لانے پر کیمسٹری نوبیل انعام دیا گیا ہے۔
اس نئی دریافت کے بعد طبی ماہرین جانوروں، پودوں اور خوردبین سے نظر آنے والی حیاتیات کے ڈی این اے کو تبدیل کر سکیں گے۔
کرسپر تکنیک کی دریافت نے خوردبین سے نظر آنے والی حیاتیاتی سائنس میں انقلاب برپا کر دیا ہے، اس کی وجہ سے نہ صرف پودوں اور درختوں کی نئی نئی اقسام تخلیق کی جا رہی ہیں بلکہ اس کی وجہ سے کینسر کے علاج میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
فرانس اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی دونوں خواتین کیمسٹری کے شعبے میں مشترکہ نوبیل انعام حاصل کرنے والی پہلی جوڑی ہیں۔ اس شعبے میں اس قبل انفرادی طور پر پانچ خواتین یہ انعام اپنے نام کر چکی ہیں۔
واضح رہے کہ نوبیل انعام برائے فزکس بلیک ہولز دریافت کرنے والے تین سائنسدانوں کو دیا گیا ہے۔
ایوارڈ حاصل کرنے والے سائنسدانوں میں راجر پن روز، رینہرڈ گینزل، اینڈریا گیز شامل ہیں۔ اینڈریا گیز نوبیل فزکس ایوارڈ حاصل کرنے والی چوتھی امریکی خاتون ہیں۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنس کے سیکرٹری گورن کے ہنسون کا کہنا تھا کہ اس سال کا نوبیل انعام کائنات کے پوشیدہ رازوں سے متعلق تھا۔
اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ کام کرنے والے راجر پن روز یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پروفیسر ہیں، انہوں نے دکھایا کہ بلیک ہولز ایک مجسم حقیقت ہیں، جو آئن اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹویٹی“ یا ”عمومی نظریہ اضافیت کو ثابت کرتا ہے۔
گینزل اور گینز نے کہکشاں کے عین مرکز میں بلیک ہولز دریافت کیے ہیں۔
نوبیل انعام برائے میڈیسن برطانیہ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی تین سائنسدان ہاروے جے آلٹر، مائیکل ہاگٹن اور چارلس ایم رائس کو دیا گیا ہے۔
نوبیل انعام برائے لٹریچر کا اعلان جمعرات، نوبیل انعام برائے امن جمعہ جب کہ نوبیل انعام برائے اکنامک سائنس کا اعلان ہفتے کو کیا جائے گا۔