سانحہ بلدیہ فیکٹری کے ملزمان نے اپنی سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے فیکٹری مالکان کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
عدالت میں دائر کی گئی اپیل میں ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا نے موقف اپنایا ہے کہ آگ لگی تو فیکٹری کے دروازے بند تھے جبکہ دروازوں کو مالکان کے حکم پر لاک کیا گیا تھا۔
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، 2 ملزمان کو سزائے موت
20 کروڑ بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی، سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ
مزدوروں کے اخراج کے لیے کوئی ہنگامی راستہ موجود نہیں تھا، 3 منزلہ عمارت کے داخلے اور اخراج کا ایک ہی راستہ تھا، فیکٹری کی کھڑکیوں کو آہنی سلاخوں سے پیک کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ فیکٹری مالکان اور متعلقہ محکموں نے بددیانتی اور غفلت کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے معصوم لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔
ملزمان نے موقف اپنایا کہ اس سانحے کی ابتدائی رپورٹ میں پولیس نے فیکٹری مالکان کو ہی نامزد کیا تھا جب کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں اصل ملزمان (فیکٹری مالکان) کو بری الزمہ قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیکٹری مالکان نے کبھی کسی کو نامزد نہیں کیا، اے ٹی سی کا فیصلہ انصاف کے طے شدہ اصولوں کے خلاف ہے۔
رحمان بھولا اور زبیر چریا نے موقف اپنایا کہ ماتحت عدالت نے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور نہ ہی جوڈیشل مائنڈ اپلائی کیا جب کہ ٹرائل کورٹ میں واقعہ سے متعلق کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش نہیں کی گئی۔
انہوں نے ایپل میں استدعا کی ہے کہ ہم پر بھتہ مانگنے کا الزام عائد کیا گیا مگر کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا لہذا انسداددہشت گردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ 22 ستمبر کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کا فیصلہ 8 سال بعد سنایا تھا۔
عدالت نے فیصلے میں دو مجرموں عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنائی جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔