سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
سندھ ہائیکورٹ کے ڈینیئل پرل قتل میں ملوث ملزمان کی رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔
عدالت نے اپیل کنندہ کی جانب سے تیاری نہ ہونے پر مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر وکلا آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔
سپریم کورٹ نے 4 ملزمان کی رہائی روکنے سے متعلق اپنے حکم نامے میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا۔
جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ ملزمان کو پہلے ہی انتظامی آرڈر کے تحت نظربند کر چکے ہیں۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عدالت کے باہر کیا ہو رہا ہے۔
جس پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ ڈاکٹر فیض شاہ نے بتایا کہ ملزمان کی رہائی گزشتہ سماعت کا حکم نامہ 5 اکتوبر کو ملا اس لیے دستاویز تیار نہ کر سکے، کیس میں مرکزی اپیلیں جمع ہیں لیکن مزید دستاویز جمع کرانے کے لئے مہلت چاہیئے۔
جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم نے اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور کی تھی اور آج تک آرڈر ملتوی کیا تھا۔
مزید برآں ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے تین ملزمان رہا اور ایک کی سزا میں نرمی کی، تمام ملزمان 18 سال سے قید میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ جیل میں گذار دیا ہے، یہ بات سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھی ہے, ملزمان کو رہا ہونے کے فیصلے کا صلہ ملنا چایئے۔